جماعت اسلامی ہند نے ہند-پاک جنگ سے متعلق بڑا بیان دیا ہے۔
نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے ہندوستان اورپاکستان کے درمیان کشیدگی، گولہ باری اورحملوں کے تسلسل پرسخت تشویش کا اظہارکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کے عہدے داروں کی جانب سے یہ اعلان ہوتا رہا ہے کہ تصادم کو طول دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، یہ اعلاں لائق خیرمقدم ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ جلد سے جلد مکمل امن کی طرف پیش رفت ہوگی۔
جماعت اسلامی ہند کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک غربت و افلاس کے مسائل پرقابوپانے اوراپنے عوام کی خوشحالی اورترقی کے لیے کوشاں ہیں اوردونوں ہی ممالک نیوکلیائی ممالک ہیں۔ اس صورت حال میں جنگ اوربدامنی کسی کے بھی حق میں نہیں ہے اوراس کا سب سے بڑا نقصان دونوں ملکوں کے غریب عوام کوہوگا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں ممالک اوریہاں کی سیاسی وعسکری قیادتیں اب تیزی سے پائیدار امن کے لیے ٹھوس اقدامات کریں گی۔
سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے عام بھارتی شہریوں کی ہلاکت کی مسلسل خبریں آرہی ہیں۔ بے قصور شہریوں کولاحق خطرات ہماری فوری توجہ چاہتے ہیں۔ ہم ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان خاندانوں کوترجیحی بنیادوں پر تمام ضروری امداد اور تحفظ فراہم کرے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق سرحد کے اُس پاربھی کئی عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ معصوم شہریوں، بالخصوص عورتوں اوربچوں کی ہلاکت چاہے ان کا تعلق کسی بھی نسل، مذہب، زبان، قومیت یا طبقے سے ہو، انتہائی افسوسناک ہے اور تمام فریقوں کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہرحال میں بے گناہ انسانی جانوں کے تحفظ کویقینی بنائیں۔ دہشت گردی خطے کا سنگین مسئلہ ہے۔ ہمارے ملک میں بہت سی قیمتی اوربے قصورجانیں اس کی نذرہوچکی ہیں اورپاکستان میں بھی دہشت گردی کے لوگ مسلسل شکارہوتے رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہرطرح کے تنگ نظرمفادات سے اوپراٹھ کراس اصل مسئلے کے پائیدارحل پرتوجہ دی جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



