ممبئی حملے کا ماسٹر مائنڈ تہور رانا این آئی اے کی 12 دنوں کی حراست میں بھیجا گیا۔
نئی دہلی: 26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے ملزم تہورحسین رانا کونیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی حراست کی مدت پوری ہونے کے بعد آج پیر (28 اپریل) کو دہلی کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس دوران این آئی اے کی ٹیم نے عدالت سے تہور رانا کی 12 دنوں کی حراست مانگی، جس کے بعد خصوصی جج چندرجیت سنگھ نے این آئی اے کی عرضی کو قبول کرتے ہوئے تہور رانا کو 12 دنوں کی این آئی اے ریمانڈ پربھیج دیا۔
ممبئی میں 26 نومبر 2008 کوہوئے دہشت گردانہ حملے کے ملزم تہور رانا کو گزشتہ دنوں امریکہ سے ہندوستان کے حوالے کیا گیا تھا۔ جس کے بعد عدالت نے اسے 18 دنوں کے لیے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی تحویل میں بھیج دیا۔ تہوررانا کو 18 دن کی این آئی اے حراست ختم ہونے کے بعد سخت سیکورٹی کے درمیان عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس دوران اس کا چہرہ ڈھکا ہوا تھا۔ عدالت میں پولیس کی بڑی تعداد تعینات تھی۔
عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھا
سینئروکیل دیان کرشنن اور اسپیشل سرکاری وکیل نریندر مان نے بند کمرے میں ہوئی سماعت میں این آئی اے کی طرف سے دلیلیں پیش کی۔ دریں اثنا، دہلی قانونی خدمات اتھارٹی کے وکیل پیوش سچدیوا نے تہوررانا کی نمائندگی کی۔ اس دوران این آئی اے نے عدالت سے تہورحسین رانا کی 12 دن کی تحویل مانگی، جس کے بعد عدالت نے انہیں 12 دن کے این آئی اے ریمانڈ پربھیج دیا۔
ہائی سیکورٹی سیل میں رکھا گیا تہور رانا
گزشتہ 18 دنوں سے دہلی کے این آئی اے دفترمیں ملزم تہور رانا سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ یہ پوچھ گچھ ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کے ذریعہ کی جارہی ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ تہور رانا جانچ میں تعاون نہیں کررہا ہے اور وہ ٹال مٹول والے جواب دے رہا ہے۔ تہور رانا کو دہلی میں این آئی اے ہیڈاکواٹرمیں ہائی سیکورٹی سیل میں رکھا گیا ہے۔
10 اپریل کو امریکہ سے ہندوستان لایا گیا تہور رانا
امریکی سپریم کورٹ نے ممبئی حملوں کے اہم ماسٹر مائنڈ ڈیوڈ کولمین ہیڈلی عرف داؤد گیلانی کے قریبی ساتھی تہور رانا کے ہندوستان حوالگی کے خلاف داخل اس کی نظرثانی کی درخواست 4 اپریل کو مسترد کردی گئی تھی، جس کے بعد اسے ہندوستان لایا گیا تھا۔ تہور رانا کینیڈین شہری ہیں، جن کا تعلق اصل میں پاکستان سے ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


