اجمیر شریف درگاہ سے متعلق ہندو فریق کو جھٹکا لگا ہے۔
Ajmer Sharif Dargah Case Update: راجستھان کے اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی درگاہ تنازعہ سے متعلق بڑی خبرسامنے آئی ہے۔ اس معاملے میں ہندو فریق کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ درگاہ اجمیرشریف کو بھگوان شیوکا مندربتائے جانے کے دعوے سے متعلق داخل کئے گئے مقدمے میں آج (19 اپریل) کوسماعت ہوئی۔ مرکزی حکومت کی طرف سے آج کی سماعت میں حلف نامہ داخل کیا گیا۔
مرکزی حکومت نے ہندو فریق کے صدروشنوگپتا کے مقدمے کوخارج کئے جانے کی سفارش کی۔ مرکزی حکومت کے اقلیتی اموروزارت کی طرف سے مقدمے کی غذائیت پرسوال اٹھائے گئے اورکہا گیا کہ ہندوسینا کا مقدمہ سماعت کے لائق نہیں ہے۔ اس مقدمے کوخارج کردیا جانا چاہئے۔
31 مئی کو ہوگی اگلی سماعت
مرکزی حکومت کی اس سفارش سے ہندو فریق کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ اقلیتی امورکی وزارت کی سفارش کی وہ سے عدالت نے آج کی سماعت ملتوی کردی۔ اجمیرشریف کی ضلع عدالت اس معاملے میں اب 31 مئی کو سماعت کرے گی۔ وزارت کی طرف سے داخل جواب میں کہا گیا ہے کہ ہندو سینا کے معاملے میں کسی بھی حقیقی صورتحال کی کوئی بنیاد نہیں دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت سنگھ کو بھی فریق نہیں بنایا گیا ہے۔ انگریزی میں داخل کئے گئے مقدمے کا ہندی ترجمہ بھی ٹھیک سے نہیں کیا گیا ہے۔ انگریزی میں داخل مقدمے اوراس کے ترجمہ میں فرق ہے۔ 27 نومبر2024 کوہونے والی سماعت میں دیئے گئے حکم میں مخالف فریق کوسننے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ ایسے میں اس کیس کوخارج کرکے واپس بھیج دیا جائے۔
ہندو سینا کے صدرنے کیا کہا؟
اس معاملے میں 31 مئی کوہونے والی اگلی سماعت میں ہندوسینا کومرکزی حکومت کی سفارش پراپنا جواب داخل کرنا ہوگا۔ ہندوسینا کے صدروشنوگپتا کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں قانونی رائے لے کرمناسب جواب داخل کیا جائے گا۔ مرکزی حکومت کی اقلیتی امورکی وزارت نے تکنیکی بنیاد پرمقدمے کوخارج کئے جانے کی سفارش کی ہے۔ اگرکوئی تکنیکی کمی ہے تواسے سدھارکرلیا جائے گا۔
مسلم فریق نے ظاہرکیا اطمینان
مرکزی حکومت کے اس فیصلے پرمسلم فریق نے اطمینان کا اظہارکیا ہے۔ خادموں کی انجمنوں کے وکیل آشیش کمارسنگھ نے کہا ہے کہ اس معاملے میں ہم لوگ یعنی مسلم فریق شروع سے ہی مقدمے کی قانونی حیثیت پرسوال اٹھا رہے تھے اوراسے خارج کرنے کی اپیل کر رہے تھے۔ مرکزی حکومت کی سفارش کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ مقدمہ صرف سستی مقبولیت حاصل کرنے کے لئے درج کرایا گیا تھا۔ اس کی کوئی بنیاد نہیں تھی۔ اس کے ذریعہ آپسی بھائی چارہ خراب کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ مسلم فریق نے مرکزی حکومت کے اس قدم کا استقبال کیا ہے اور مقدمے کو خارج کئے جانے کے مطالبہ کو دوہرایا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

