Bharat Express DD Free Dish

Maulana Mahmood Madani on Waqf Act 2025: وقف قانون پرسپریم کورٹ کا عبوری حکم، مولانا محمود مدنی کا بڑا بیان آیا سامنے

مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسیٹرجنرل تشارمہتا نے پیش ہوکرعدالت سے استدعا کی کہ انہیں ابتدائی جواب اورمتعلقہ دستاویزات داخل کرنے کے لیے سات دنوں کی مہلت دی جائے، جسے عدالت نے منظورکرلیا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے خلاف دائرمختلف عرضیوں پرسماعت کرتے ہوئے اس قانون پرعبوری روک لگانے سے انکارکردیا، تاہم عدالت نے وقف املاک کے تحفظ کے لیے اہم ہدایات جاری کیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ کوئی بھی وقف جائیداد، خواہ وہ رجسٹرڈ ہو یا وقف بائی یوزرکے تحت ہو، اپنی موجودہ حیثیت میں برقراررہے گی اوراس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسیٹرجنرل تشارمہتا نے پیش ہوکرعدالت سے استدعا کی کہ انہیں ابتدائی جواب اورمتعلقہ دستاویزات داخل کرنے کے لیے سات دنوں کی مہلت دی جائے، جسے عدالت نے منظورکرلیا۔ مرکزنے اپنے دلائل میں کہا کہ اس قانون کولاکھوں درخواستوں کے پس منظرمیں لایا گیا ہے، جن میں پورے کے پورے گاؤں اورمتعدد زمینوں کووقف قراردیئے جانے پرعوامی تشویش کا اظہارکیا گیا تھا۔

پانچ عرضیوں پرہوگی سماعت
چیف جسٹس آف انڈیا نے واضح کیا کہ عدالتی نظم وضبط کے پیش نظرصرف پانچ عرضیوں پر سماعت کی جائے گی اورباقی کو نمٹا دیا جائے گا۔ عدالت نے مزید کہا کہ اس مقدمے کوآئندہ سماعتوں میں “رپلائی وقف ترمیمی ایکٹ” کے عنوان سے پیش کیا جائے گا، جبکہ وقف ایکٹ 1995 اور2013 کی ترمیم کے خلاف عرضیوں کوالگ سے سنا جائے گا۔

موجودہ قانون پرمولانا محمود مدنی کا ردعمل
اس مقد مے میں صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی نمائندگی سینئرایڈوکیٹ راجیو دھون اورایڈوکیٹ آن ریکارڈ منصورعلی خاں نے کی۔ اس موقع پرمولانا محمود مدنی نے سپریم کورٹ کے اس عبوری حکم پرکہا کہ یہ قانون وقف کے لئے سنگین خطرہ ہے، اس کا مقصد صرف وقف جائیدادوں کی حیثیت بدلنااوراس پرقبضہ جمانا ہے، اس لیے اس قانون پرحتمی اورسخت فیصلہ کی امید کی جارہی ہے۔انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اصولی طورپران خدشات کوتسلیم کیا ہے جو ہماری طرف سے پیش کئے گئے بالخصوص غیر مسلموں کی شمولیت بلکہ اکثریت اوروقف بائی یوزرکا خاتمہ اورکلکٹرکے ذریعہ وقف کی حیثیت بدلنے کی غیرآئینی کوششیں۔ یہ صرف ہمارے خدشات نہیں ہیں بلکہ آج ملک کا ہردانشورطبقہ اسے تسلیم کررہا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس ایکٹ کے خلاف ہر گوشے سے صدائے احتجاج بلندہوئی ہیں اور لگاتار ہورہی ہیں ۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read