Bharat Express DD Free Dish

Impact of toll plaza closure by protesting Punjab farmers: پنجاب کے کسانوں کے احتجاج کے دوران ٹول پلازوں کی بندش سے ہوا ہے 1638 کروڑ روپے کا نقصان، مرکز نے پنجاب حکومت کو بھیجا خط

مرکزی حکومت نے پنجاب کے کسانوں کے مسلسل احتجاج اور قومی شاہراہوں پر ٹول پلازوں کو بند کرنے کی وجہ سے 1,638.55 کروڑ روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا ہے۔

فائل فوٹو | پی ٹی آئی

مرکزی حکومت نے پنجاب کے کسانوں کے مسلسل احتجاج اور قومی شاہراہوں پر ٹول پلازوں کو بند کرنے کی وجہ سے 1,638.55 کروڑ روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا ہے۔ 4 اپریل کو روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کی وزارت کے سکریٹری وی اوماشنکر نے پنجاب کے چیف سکریٹری کے اے پی سنہا کو لکھا کہ ٹول پلازوں کی بار بار ’’بندش‘‘ کی وجہ سے مرکزی خزانے کو 1638.85 کروڑ روپے کا مجموعی نقصان ہوا ہے۔

یہ نقصان اکتوبر 2020 سے نومبر 2024 کے دورانیے کا بتایا جا رہا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے ’’اس سے ایک مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) کو ٹول وصول کرنے والی ایجنسیوں کو نقصانات کی تلافی کرنی ہوگی، جو ریاست سے وصولی کی جاسکتی ہے، کیوں کہ ٹول کی آمدنی ہندوستان کے کنسولیڈیٹیڈ فنڈ میں جمع ہوتی ہے۔‘‘ خط میں پنجاب کے چیف سکریٹری سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں اور متاثرہ علاقوں میں ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی ٹول پلازہ زبردستی بند نہ کیا جائے اور نہ کوئی رکاوٹ پیدا کی جائے۔

خط میں بتائی گئی ہے نقصانات کی تفصیل

خط میں تفصیل پیش کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ’’اکتوبر 2020 سے دسمبر 2021 کے درمیان 1,348.77 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے (کسانوں کے سال بھر جاری رہنے والے احتجاج کے دوران)، 2022-23 میں 41.83 کروڑ روپے، جنوری 2024 سے جولائی 2024 تک 179.10 کروڑ روپے اور اکتوبر سے نومبر 42024 تک مرکزی حکومت کے خزانے کو 69.15 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ گزشتہ سال 17 اکتوبر سے 13 نومبر تک 24 ٹول پلازے غیر فعال رہے اور ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد ہی ان ٹول پلازوں کو کھولا جا سکا۔‘‘

اس دوران پنجاب کے وزیر خزانہ ہرپال سنگھ چیما نے کہا ہے کہ ٹول پلازے ریاستی حکومت کے خلاف نہیں بلکہ مرکزی حکومت کے خلاف کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے بند کیے گئے تھے۔ انھوں نے کہا ’’ریاستی حکومت کو نقصان کیوں برداشت کرنا چاہئے؟ مرکز کو NHAI کے نقصان کی تلافی کرنی چاہیے۔ مرکز کو کسانوں کو احتجاج کرنے دینے کے بجائے ان کے مطالبات کو ماننا چاہیے تھا۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read