Bharat Express DD Free Dish

Farmer’s protest

امریکہ-بھارت تجارتی معاہدے کے خلاف پنجاب کے کسانوں کا دہلی تک مارچ حکومت کی یقین دہانی کے بعد ملتوی کردیا گیا ہے۔ ہریانہ کے وزیر زراعت کے ساتھ میٹنگ میں گرفتار کسان لیڈروں کی رہائی اور تجارتی معاہدے پر مرکزی وزیر زراعت سے بات چیت کے مطالبے پر ایک معاہدہ طے پایا، جس کے بعد کسانوں نے شمبھو بارڈر سے واپسی شروع کردی ہے۔

جب گھریلو پیداوار کو فروغ دینے کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، تب بھی کوئی پالیسی، کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ کیا اب بھارتی کسان اپنی ہی زمین پر بےبس ہو جائے گا؟ جب قیمتی وقت اور صحت مند فصلیں ضائع ہو رہی ہیں، کسان، جو قرض اور مایوسی میں ڈوبا ہوا ہے، یہ سوال پوچھ رہا ہے ’’ کس کا ساتھ، کس کا وکاس‘‘؟

مرکزی حکومت نے پنجاب کے کسانوں کے مسلسل احتجاج اور قومی شاہراہوں پر ٹول پلازوں کو بند کرنے کی وجہ سے 1,638.55 کروڑ روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا ہے۔

کسانوں کو روکنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن اور آنسو گیس کے کئی گولے داغے، جس میں 5 کسانوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، کسان دہلی جانے پر بضد ہیں  ۔

کسان تنظیموں کے احتجاج کے پیش نظر نوئیڈا ٹریفک پولیس کی جانب سے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس دوران کئی راستوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب یہ جانکاری دی گئی ہے کہ دہلی میں کسان اپنے مسائل کو لے کر احتجاج کریں گے۔ گے

کسان فروری سے پنجاب-ہریانہ سرحد پر فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) اور دیگر مطالبات کو لے کر احتجاج کر رہے ہیں۔

دراصل کسانوں کو روکنے کے لیے پولیس نے دو ہفتے قبل دہلی-ہریانہ کی سنگھو سرحد کو سیل کر دیا تھا۔ کسانوں کے دہلی چلو مارچ کو ملتوی کرنے کے اعلان کے بعد دہلی پولیس نے سرحد کو جزوی طور پر کھول دیا۔

کسان رہنما سرون سنگھ پنڈھیر نے کہا، " شبھکرن سنگھ کی موت کے بعد پنجاب حکومت سے بات چیت ہو رہی تھی۔ ہمارے تمام مطالبات مان لیے گئے کہ حملہ کرنے والوں کے خلاف دفعہ 302 (قتل) کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔

ایکس نے کسانوں کے احتجاج سے متعلق اکاؤنٹس اور پوسٹس کو معطل کرنے کے بھارتی حکومت کے احکامات کو قبول کیا، لیکن یہ قدم اٹھانے سے اختلاف بھی کیا۔

انٹرنیٹ بند کرنے کی تاریخ 23 فروری تک بڑھا دی گئی۔ انبالہ، کروکشیتر، کیتھل، جند، حصار، فتح آباد اور سرسا میں موبائل انٹرنیٹ اور بلک میسجنگ پر پابندی نافذ ہے۔