سپریم کورٹ کے ایک تاریخی فیصلے کی بنیاد پر تمل ناڈو حکومت نے ان دس قوانین کو مطلع کر دیا ہے جو گورنر آر این روی کے ذریعہ روکے گئے تھے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں کہا ہے کہ دوبارہ منظورہ شدہ بلوں کو صدر کی منظوری کے لیے روکنے کا گورنر روی کا فیصلہ غیرآئینی تھا۔
تمل ناڈو کے گزٹ نوٹیفیکیشنز میں سپریم کورٹ کے 8 اپریل 2025 کے حکم کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ بلوں کے محفوظ ہونے کے بعد صدر کی طرف سے کیے گئے تمام اقدامات غیر قانونی ہیں (جس کا کوئی قانونی وجود نہیں ہے) اور یہ سمجھا جائے گا کہ بلوں کو گورنر کی منظوری اسی دن موصول ہوگئی تھی جس دن انھیں گورنر کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔
ریاستی حکومت نے ان دس قوانین کو کیا ہے نافذ:
تمل ناڈو حکومت نے جو دس قوانین مطلع کیے ہیں ان میں تمل ناڈو فشریز یونیورسٹی (ترمیمی) ایکٹ 2020، تمل ناڈو ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز یونیورسٹی (ترمیمی) ایکٹ 2020، تمل ناڈو یونیورسٹیز قوانین (ترمیمی) ایکٹ 2022، تمل ناڈو ڈاکٹر امبیڈکر لاء یونیورسٹی (ترمیمی) ایکٹ 2022، تمل ناڈو ڈاکٹر ایم جی آر میڈیکل یونیورسٹی، چنئی (ترمیمی) ایکٹ 2022، تمل ناڈو زرعی یونیورسٹی (ترمیمی) ایکٹ 2022، تامل یونیورسٹی (دوسری ترمیم) ایکٹ 2022، تمل ناڈو فشریز یونیورسٹی (ترمیمی) ایکٹ 2023، تمل ناڈو ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز یونیورسٹی (ترمیمی) ایکٹ اور تمل ناڈو یونیورسٹیز لاز (دوسری ترمیم) ایکٹ 2022 شامل ہیں۔
نئے مطلع شدہ قوانین کے تحت تامل ناڈو حکومت کو 18 ریاستی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تقرری کا اختیار حاصل ہے، جو کہ پہلے گورنر کے پاس تھا۔ ڈی ایم کے کے راجیہ سبھا کے رکن پی ولسن نے ٹویٹ کیا ’’یہ ہندوستان میں کسی بھی مقننہ کے پہلے ایکٹ ہیں جو سپریم کورٹ کے فیصلے کی طاقت پر گورنر / صدر کے دستخط کے بغیر نافذ ہوئے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ جس وقت ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی، اس وقت اسمبلی کے منظور کردہ 12 بل گورنر کے پاس زیر التوا تھے، جن میں سے دو بل 2020 کے اوائل میں پاس کیے گئے تھے۔
جانیے کیا ہے پورا معاملہ
گورنر اور ریاستی حکومت کو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے عدالت کے مشورے کے بعد، گورنر نے 12 میں سے 10 بلوں کی منظوری روک دی اور انھیں اسمبلی میں واپس کر دیا جب کہ باقی دو کو صدر کے غور کے لیے محفوظ کر دیا۔ صدر کے پاس ابھی تک دو بل زیر التوا ہیں: چنئی یونیورسٹی ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل اور سدھا، آیوروید، یونانی، یوگا اور نیچروپیتھی اور ہومیوپیتھی کے لیے یونیورسٹی کے قیام کا بل۔ گورنر کے ذریعے اسمبلی کو واپس کیے گئے بلوں کو تمل ناڈو اسمبلی نے دوبارہ غور کے بعد منظور کیا اور پھر 18 نومبر 2023 کو گورنر کی منظوری کے لیے بھیجا۔
تاہم گورنر نے ان تمام دس بلوں کو صدر کے غور و خوض کے لیے محفوظ رکھا۔ صدر نے بعد ازاں سات بلوں کی منظوری روک دی، ایک کی منظوری دی اور دو کو غیر فیصلہ کن چھوڑ دیا۔ ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کے سامنے دلیل دی کہ گورنر کے پاس آئین کے تحت ایسے بلوں کو محفوظ رکھنے کا کوئی اختیار نہیں ہے جن پر اسمبلی نے دوبارہ غور کیا ہو اور دوبارہ منظور کیا ہو۔
اپنے اس تاریخی فیصلے میں سپریم کورٹ نے سیاق و سباق کے لحاظ سے گورنر کے لیے بلوں پر کارروائی کرنے کے لیے وقت کی حد مقرر کی، جو ایک ماہ سے لے کر تین ماہ تک ہے۔ عدالت عظمیٰ نے صدر کے لیے گورنروں کے محفوظ کردہ بلوں پر عمل کرنے کے لیے بھی تین ماہ میعاد مقرر کی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے تمام ہائی کورٹس، پرنسپل سکریٹریز اور تمام ریاستوں کے گورنروں کو اس فیصلے کی کاپیاں بھیجنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
