بنگلورو میں ایک معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک پارک کے باہر پانچ نوجوانوں نے ایک نوجوان اور ایک خاتون کو مبینہ طور پر ہراساں کیا اور حملہ کیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ جوڑا سکوٹر پر بیٹھا ہوا تھا کہ کچھ لوگوں نے انہیں گھیر لیا اور سوالات کرنے لگے اور ویڈیو ریکارڈ کرنا شروع کر دی۔ اس معاملے میں پولیس نے فوری کارروائی کی ہے۔ قابل ذکر بات بات یہ ہے کہ ملکارجن کھرگے کے بیٹے پریانک کھرگے نے اس واقعہ کے بارے میں کہا کہ یہ یوپی-بہار نہیں کرناٹک ہے۔ ایسی حرکتیں یہاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔
ویڈیو میں نوجوان نارنجی ٹی شرٹ اور نوجوان خاتون برقعے میں نظر آ رہی ہے۔ کچھ نوجوان اس کے ساتھ بدتمیزی سے گفتگو کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک لڑکا برقعہ پہنی ہوئی لڑکی کی ویڈیو بناتا ہے اور بار بار اس سے پوچھتا ہے کہ کیا اس کے گھر والوں کو معلوم ہے کہ وہ کہاں ہے۔ وہ نوجوان سے یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ وہ کسی دوسرے مذہب کی لڑکی کے ساتھ کیوں بیٹھا ہے۔
ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ لڑکا اس برقعہ والی لڑکی سے یہ کہتے ہوئے دیکھا گیا کہ کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟ اور اسے ڈرانے کی کوشش کی۔ پولیس نے ابتدائی طور پر کسی بھی تشدد سے انکار کیا تھا، لیکن ایک اور ویڈیو میں صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ ملزم نوجوان کو گھیر کر اسے لاٹھیوں سے پیٹتے ہیں ۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) گریش نے کہا، “ہمیں خاتون کی طرف سے شکایت موصول ہوئی ہے، جس کی بنیاد پر ایک کیس درج کیا گیا ہے۔ ایک نابالغ سمیت تمام پانچوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تحقیقات جاری ہیں۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ملزمان بنیادی طور پر خاتون سے پوچھ رہے تھے کہ وہ وہاں کیوں بیٹھی ہے، مزید حقائق مزید تفتیش میں سامنے آئیں گے۔’
اس واقعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کرناٹک کے وزیر پریانک کھرگے نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، “ریاست میں اخلاقی پولیسنگ کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ بہار، اتر پردیش یا مدھیہ پردیش نہیں ہے۔ کرناٹک ایک ترقی پسند ریاست ہے۔”
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


