پولیس نے اتوار کو بتایا کہ اتر پردیش کے سیتاپور ضلع کے وبھارا پور گاؤں میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب ایک سرکاری زمین سے بی آر امبیڈکر اور بھگوان بدھ کے مجسموں کو ہٹانے پر گاؤں والے پولیس سے الجھ گئے۔ اس جھڑپ میں کم از کم آٹھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، کیوں کہ گاؤں والوں نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔ اس سلسلے میں پانچ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ان مجسموں کو گاؤں والوں نے 11 مارچ کو پنچایت بھون کے سامنے بنائے گئے چبوترے پر نصب کیا تھا۔ شکایت کے بعد تحصیل انتظامیہ نے مجسموں کو ہٹانے کے لیے 12 مارچ کو نوٹس جاری کیا۔ تاہم گاؤں والوں نے اس اقدام کی مخالفت کی اور مجسمے اپنی جگہ پر موجود رہے۔ یہ معاملہ ہفتہ کے روز مہولی میں منعقدہ شکایت کے ازالے کے پروگرام (سمپورن سمادھان دِوس) کے دوران دوبارہ سامنے آیا۔ لہٰذا تازہ ہدایات پر عمل کرتے ہوئے مہولی سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) ششی بِند دویدی اور سرکل آفیسر وشال گپتا پولیس اور ریونیو اہلکاروں کی مشترکہ ٹیم اور بلڈوزر کے ساتھ پساواں پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع اس گاؤں پہنچے متنازعہ مقام سے دونوں مجسموں کو ہٹا دیا۔
گاؤں والوں نے اچانک شروع کا پتھراؤ
جب پولیس اور انتظامی اہلکار واپسی کی تیاری کر رہے تھے، تبھی گاؤں والوں کے ایک گروپ نے ان پر پتھراؤ شروع کر دیا، جس سے آٹھ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے اور سرکل آفیسر کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (جنوبی) پروین رنجن نے کہا ’’گاؤں کے لوگ اس وقت پرسکون تھے جب مجسمے ہٹائے جا رہے تھے، لیکن جب ٹیم روانہ ہو رہی تھی تو انھوں نے اچانک پتھر پھینکنا شروع کر دیا۔‘‘ انھوں نے مزید بتایا کہ جوابی کارروائی میں پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے ہلکی طاقت کا استعمال کیا۔ لہٰذا اس تصادم میں کچھ دیہاتیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
اے ایس پی نے بتایا کہ اس سلسلے میں دو خواتین سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔ مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے گاؤں میں کافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ رنجن نے کہا کہ حالات اب قابو میں ہیں اور معمول پر آچکے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



