Bharat Express DD Free Dish

MRM on Waqf Amendment Bill: ’’وقف مافیاؤں کے قبضے سے آزاد، مسلمانوں کو ملی نئی آزادی‘‘، مسلم راشٹریہ منچ نے ملک کے مسلمانوں سے اس تاریخی لمحے کا جشن منانے کی اپیل کی

مسلم راشٹریہ منچ (MRM) نے اس بل کو ایک تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو، جے پی سی چیئرمین جگدمبیکا پال اور منچ کے ہزاروں کارکنوں کی کاوشوں کو سلام پیش کیا ہے۔

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے وقف ترمیمی بل 2024-2025 کی منظوری کے بعد ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مسلم راشٹریہ منچ (MRM) نے اس بل کو ایک تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو، جے پی سی چیئرمین جگدمبیکا پال اور منچ کے ہزاروں کارکنوں کی کاوشوں کو سلام پیش کیا ہے۔ منچ کے قومی کنوینر اور قومی میڈیا انچارج شاہد سعید نے مسلم سماج سے اپیل کی ہے کہ وہ اس تاریخی لمحے کو جوش و خروش سے منائیں۔ یہ قانون کسی مذہب یا فرقے کے خلاف نہیں بلکہ شفافیت، انصاف اور ترقی کی علامت ہے۔ یہ یتیموں، بیواؤں، غریبوں اور ضرورت مندوں کو ان کے حقوق دلانے والا قانون ہے۔

منچ نے ملک کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان سیاسی جماعتوں اور تنظیموں سے ہوشیار رہیں جو ملک کو تقسیم کرنے، لڑانے اور بہکانے کا کام کرتی ہیں۔ منچ نے کہا کہ بھارت کو 1947 میں انگریزوں سے آزادی ملی، لیکن وقف کو مافیا اور زمین جہادیوں سے آج آزادی ملی ہے۔ اس دن اور وزیر اعظم کا نام سنہری حروف میں لکھا جانا چاہیے۔ منچ نے کہا کہ یہ قانون مسلم سماج کو کانگریس، سماج وادی پارٹی اور راشٹریہ جنتا دل جیسی نام نہاد مسلم حمایتی جماعتوں کی سیاسی غلامی سے بھی آزاد کرتا ہے۔ منچ نے زور دے کر کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان خوف، غلط فہمیوں اور شدت پسندی سے باہر آئیں اور ترقی کے ساتھ آگے بڑھیں۔

منچ کی ملک گیر مہم: گاؤں گاؤں میں عوامی بیداری

مسلم راشٹریہ منچ نے بتایا کہ اس بل کی حمایت میں منچ کے ہزاروں کارکنوں نے ملک کے کونے کونے میں 5000 سے زیادہ عوامی جلسے، مکالمے، سیمینار، تحریری مہم اور ٹی وی مباحثے منعقد کیے، جس سے معاشرے میں بیداری پیدا ہوئی۔ وقف جائیدادوں میں ہونے والی بے ضابطگیوں، لوٹ کھسوٹ اور سیاسی مفادات کی حقیقت کو بے نقاب کیا گیا۔ سینکڑوں خصوصی پروگرام منعقد کرکے وقف جائیدادوں میں جاری گھوٹالوں اور بدانتظامی کی حقیقت سامنے لائی گئی۔ افواہوں اور غلط بیانات کی تردید کرتے ہوئے عوام کو بتایا گیا کہ اس قانون سے کسی کی عقیدت کو کوئی خطرہ نہیں بلکہ یہ ایک سماجی اصلاح کا راستہ ہے۔

’’ریسپیکٹ ٹو اسلام اینڈ گفٹ فار مسلم‘‘ کتاب کا کردار: ایک نیا دور، نئی امید

وقف قانون کے پس منظر، تاریخی نقطہ نظر اور حل پر لکھی گئی کتاب “Respect to Islam and Gift for Muslim” اس تحریک کی فکری بنیاد بنی ہے۔ اس کے اجرا میں کرن رجیجو، جگدمبیکا پال، مسلم راشٹریہ منچ کے سرپرست اندریش کمار، سنگھ کے رابطہ پرمکھ رام لال، بہار کے گورنر عارف محمد خان اور مونٹی نیگرو کی سفیر جینس درباری شامل تھے۔ کرن رجیجو نے اس کتاب کو وقف کا انسائیکلوپیڈیا قرار دیا اور ہر کسی کو اسے پڑھنے کی سفارش کی۔ یہ کتاب اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، ہریانہ کے گورنر بندارو دتاتریہ اور کرناٹک کے گورنر تھاور چند گہلوت تک بھی پہنچائی گئی ہے۔

منچ کے کارکنوں کے ذریعے یہ کتاب عام لوگوں تک پہنچی، جس میں وقف میں جاری بے ضابطگیوں کو واضح طور پر اجاگر کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی بل کی حمایت میں تفصیل سے وضاحت دی گئی تھی۔ قانون بننے کے بعد اس سے محروم مسلمانوں کو پہنچنے والے ممکنہ فوائد پر بھی روشنی ڈالی گئی تھی۔ کتاب میں بتایا گیا تھا کہ یہ قانون وقف جائیدادوں کے غلط استعمال پر روک لگائے گا، شفافیت لائے گا اور معاشرے کے پسماندہ طبقے کو ان کا حق دلائے گا۔ یہ ’’وقف سے ترقی‘‘ کے تصور کو حقیقت میں بدلنے میں معاون ثابت ہوگا اور مسلم سماج کو خود کفیل اور باوقار مستقبل کی طرف لے جائے گا۔

ماہرین کی آراء: قانون کا خیرمقدم

پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر، ایگزیکٹو چیئرمین، NCMEI: ’’یہ قانون سچ کی جیت ہے۔ سالوں سے وقف جائیدادوں پر قبضے اور بدعنوانی کی شکایات تھیں، اب ان کا حل ممکن ہو سکے گا۔ وقف بورڈ کی نااہلی کے باعث بھارتی مسلمان پیچھے رہ گئے، جب کہ ان کے پاس دنیا کا سب سے بڑا زمین بینک ہے۔ اگر ان جائیدادوں کا درست استعمال کیا جاتا تو مسلم سماج تعلیم، صحت اور معیشت میں نمایاں ہوتا۔ یہ بل ان بدعنوان عناصر پر روک لگائے گا، جنھوں نے سالوں تک وقف جائیدادوں کا استحصال کیا۔‘‘

ڈاکٹر شالینی علی، سماجی کارکن و تجزیہ کار: ’’وقف جائیدادوں کی ڈیجیٹلائزیشن، CAG آڈٹ اور شفافیت سے نام نہاد رہبر خوفزدہ تھے، کیونکہ اس سے ان کی غیر قانونی جائیدادیں بے نقاب ہو جاتیں۔ یہ بل ان لوگوں کے لیے چیلنج ہے، جنھوں نے سالوں تک وقف جائیدادوں کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا۔ اب ان کا اصل چہرہ معاشرے کے سامنے آئے گا اور وقف جائیدادوں کا درست استعمال تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبے میں ہوگا۔‘‘

ایڈوکیٹ شیرا ز قریشی، مسلم امور کے ماہر: ’’کچھ عناصر اس بل کے خلاف افواہیں پھیلا رہے تھے کہ یہ مسلم جائیدادوں میں مداخلت کرے گا۔ یہ سراسر جھوٹ تھا۔ یہ قانون وقف جائیدادوں کو شفاف بنانے اور غریب مسلمانوں کو ان کا حق دلانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ پہلے کچھ خاص لوگ ان جائیدادوں پر قابض تھے، لیکن اب اس کا درست استعمال تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے ہوگا۔‘‘

شاہد سعید، سینئر صحافی و سماجی کارکن: ’’اگر وزیر اعظم نریندر مودی اس بل کو 2014 سے 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے منظور کراتے، تو کون انھیں روک سکتا تھا؟ اس کے باوجود، جب ان کے پاس مکمل اکثریت نہیں تھی، تب بھی انھوں نے اس بل کو منظور کرا کر ثابت کر دیا کہ وہ مسلم سماج کے پسماندہ افراد کی فکر کرتے ہیں۔ یہ قانون ان لاکھوں غریب مسلمانوں کے لیے ایک نئی امید لے کر آیا ہے، جنھیں وقف جائیدادوں سے اب تک کوئی فائدہ نہیں پہنچا تھا۔‘‘

منچ کی عوام سے اپیل

مسلم راشٹریہ منچ کے عہدیداروں نے ملک کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے رہنماؤں اور جماعتوں سے چوکنا رہیں جو خوف پھیلا کر مسلم سماج کو گمراہ کرتے ہیں۔ منچ نے کہا ’’اب وقت ہے تبدیلی کا، بھائی چارے کا اور سماج کو تعلیم یافتہ و مستحکم بنانے کا۔ یہ قانون ‘وقف سے ترقی’ کی بنیاد رکھے گا اور بھارت کے مسلمانوں کو باعزت زندگی گزارنے کا موقع دے گا۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read