سماجوادی پارٹی کی رکن اسمبلی پلوی پٹیل کو پولیس نے حراست می لیا۔
اترپردیش واقع سراتھو سے سماجوادی پارٹی کی رکن اسمبلی اوراپنا دل کمیرا وادی کی لیڈر پلوی پٹیل کو دارالحکومت لکھنومیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ جانکاری پلوی پٹیل نے خود سوشل میڈیا سائٹ پر دی۔ ایک ویڈیو شیئرکرکے پلوی پٹیل نے لکھا- دلت رکن پارلیمنٹ کے گھر پر حملہ اورتشدد کے خلاف دارالحکومت لکھنؤ کی سڑکوں پراحتجاج۔ سینکڑوں ساتھیوں کے ساتھ حراست میں لیا گیا۔ جدوجہد جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ پلوی پٹیل نے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ رام جی لال سمن کی رہائش گاہ پرکرنی سینا کے ذریعہ کئے گئے توڑ پھوڑ سے متعلق احتجاجی مظاہرہ کیا۔ آپ کو بتادیں کہ رکن پارلیمنٹ رام جی لال سمن کی رہائش گاہ پرتوڑ پھوڑکرنے اور جان لیوا حملہ کرنے تک کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ رام جی لال سمن اور ان کے بیٹے نے ایف آئی آر درج کرائی ہے۔
दलित सांसद के घर पर हमले वह हिंसा के खिलाफ राजधानी लखनऊ की सड़कों पर आंदोलन।
सैकड़ो साथियों के साथ हिरासत में लिया गया।
संघर्ष जारी रहेगा……………….. pic.twitter.com/mXOnE4b6X7— Dr. Pallavi Patel (@pallavi_apnadal) March 27, 2025
پلوی پٹیل اور ان کے حامیوں کو ایکوگارڈن بھیجا گیا
سماجوادی پارٹی کی رکن اسمبلی پلوی پٹیل اور اپنا دل کمیرا وادی کے کارکنان نے پریورتن چوک سے حضرت گنج چوراہے تک احتجاج کرنے کی کوشش کی۔ پریورتن چوک پر پولیس کے ذریعہ بیریکیٹنگ لگاکر سبھی مظاہرین کو بسوں میں بھرکر ایکوگارڈن بھیجا گیا۔ رکن اسمبلی پلوی پٹیل نے بتایا کہ رام جی سمن ایک دلت فیملی سے آتے ہیں، جس کی وجہ سے اس طرح کا ظلم کیا گیا اور یہ ایک سازش کے تحت کیا گیا ہے۔ یہ ایک دن کا عمل نہیں ہے۔ اس کے لئے کافی عرصے سے سازش کی جا رہی تھی۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
واضح رہے کہ منگل 26 مارچ، 2025 کورام جی لال سمن کے آگرہ واقع رہائش گاہ پرکرنی سینا کے لوگوں نے حملہ بولا اورتوڑپھوڑکی۔ لال سمن کی مخالفت اس بیان کی وجہ سے ہورہی ہے، جو انہوں نے رانا سانگا کے ضمن میں دیا تھا۔ حملے کے ضمن میں پولیس اور رام جی لال سمن کے بیٹے دونوں کی طرف سے الگ الگ ایف آئی آر درج کرائی گئی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



