Bharat Express DD Free Dish

Ukraine War: ’’یوکرین کے فوجیوں کو بچانے لیں…‘‘، ڈونلڈ ٹرمپ نے پوتن سے کی درخواست

ٹرمپ پہلے یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ اگر وہ صدر ہوتے تو یوکرین کی جنگ کبھی شروع نہ ہوتی۔ انہوں نے یوکرین کی جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کا منصوبہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اگر وہ صدر منتخب ہوئے تو وہ جلد جنگ ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پوتن

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ (14 مارچ 2025) کو انکشاف کیا کہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ یوکرین جنگ کے خاتمے اور یوکرینی فوجیوں کی جانیں بچانے پر بات کی۔ ٹرمپ نے اپنے ٹرتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ جمعرات کے روز پوتن کے ساتھ ان کی ’بہت اچھی اور مفید گفتگو‘ ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ یوکرین کے ہزاروں فوجی روسی فوج کے گھیرے میں ہیں اور انتہائی کمزور حالت میں ہیں۔ انہوں نے پوتن سے یوکرینی فوجیوں کی جانیں بچانے کی درخواست کی۔

ٹرمپ کی پوتن سے درخواست

ٹرمپ نے کہا، ’’میں نے صدر پوتن سے پرزور اپیل کی ہے کہ یوکرین کے فوجیوں کی جان بخشی جائے، یہ ایک ایسا ہولناک قتلِ عام ہو گا جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے نہیں دیکھا گیا۔‘‘ انہوں نے اپنے پیغام کے آخر میں لکھا، ’’خدا ان سب کو سلامت رکھے!‘‘

کیا ٹرمپ ثالثی کرنا چاہتے ہیں؟

ٹرمپ پہلے یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ اگر وہ صدر ہوتے تو یوکرین کی جنگ کبھی شروع نہ ہوتی۔ انہوں نے یوکرین کی جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کا منصوبہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اگر وہ صدر منتخب ہوئے تو وہ جلد جنگ ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

کیا ممکن ہے جنگ بندی؟

روس نے اب تک یوکرین پر اپنا حملہ جاری رکھا ہوا ہے اور کسی بڑے سمجھوتے کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔ یوکرین اور مغربی ممالک روس پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ حالانکہ، ٹرمپ مسلسل ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں۔ حال ہی میں اس معاملے پر ٹرمپ کی یوکرین کے صدر زیلنسکی کے ساتھ گرما گرم بحث بھی ہوئی تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی اس درخواست کے بعد یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس کا جنگی حالات پر کوئی حقیقی اثر پڑے گا یا نہیں اور پوتن یوکرین کے تئیں کتنی نرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read