ولادیمیر پتن اور ولادیمیر زیلنسکی۔ (فائل فوٹو)
Russia Rejects Ukraine Peace Proposal: روس کے وزارت خارجہ نے برطانیہ اور فرانس کے یوکرین امن تجویزکوخارج کردیا ہے۔ وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے اسے یوکرینی فوج کوراحت دینے کی حکمت عملی قراردیا۔ زاخارووا نے کہا کہ “فضائی حملوں اوربحری کارروائیوں میں مجوزہ توقف کا مقصد یوکرین کی افواج کوبچانا اورمحاذ کوگرنے سے روکنا ہے۔ کیوکسی بھی جنگ بندی کا استعمال اپنی فوجی صلاحیت کو مضبوط کرنے کے لئے کرے گا، جس سے تنازعہ پھرسے بھڑک اٹھے گا”۔
روس-امریکہ مذاکرات پر روس کا بیان
روس نے کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لئے تیارہے، لیکن امریکی انتظامیہ کوپہلے مذاکرات کاروں کی ایک ٹیم بنانی ہوگی۔ ماریہ زاخارووا نے واضح کیا کہ روس امریکہ کے ساتھ پابندی ہٹانے پرتبادلہ خیال نہیں کرے گا۔
یوکرین کا جواب، سیکورٹی کی ضمانتوں کے بغیرنہیں ہوں گے امن مذاکرات
یوکرینی صدرولادیمیرزیلنسکی نے کہا کہ بغیرسیکورٹی کی ضمانتوں کے یوکرین سلامتی کی ضمانتوں کے بغیرروس کے ساتھ کوئی کے ساتھ کسی بھی امن مذاکرات یا جنگ بندی پررضامند نہیں ہوگا۔ یورپی ممالک نے یوکرین کودفاعی تعاون بڑھانے کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد یورپی اسٹاک مارکیٹ اوریوروکی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
روس اور یوکرین میں جاری ہے بحث
روسی صدارتی محل کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ کسی کوزیلنسکی کو اپنا موقف بدلنے پرمجبورکرنا پڑے گا۔ انہوں نے یوکرین میں یورپی فوجیوں کی تعیناتی کے خیال کومسترد کردیا۔ وہیں، ولادیمیرزیلنسکی نے کہا کہ روس یوکرین جنگ کا حل ابھی بہت دورہے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہرکی کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے نہ ہونے کے باوجود امریکہ کی جانب سے حمایت جاری رہے گی۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے دیا بڑا بیان
واضح رہے کہ حال ہی میں امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کو پتن کے بجائے غیرقانونی تارکین وطن، ڈرگ مافیا اورجرائم پیشہ گروہوں پرزیادہ توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے اپنے میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پرلکھا، “ہمیں پوتن کی فکرکرنے میں کم وقت گزارنا چاہئے اورغیرقانونی تارکین وطن کی وجہ سے پیدا ہونے والی پریشانیوں کوروکنے پرتوجہ مرکوزکرنی چاہئے، تاکہ امریکہ یورپ جیسا نہ بن جائے۔”
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


