رانچی/نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جھارکھنڈ کے بوکارو کے رہنے والے ہرینند سنگھ کی اپیل پر سماعت کے بعد فیصلہ دیا ہے کہ کسی شخص کو ’میاں تیاں‘ اور ’پاکستانی‘ کہنا غیر مناسب ہو سکتا ہے، لیکن اسے تعزیرات ہند کی دفعہ 298 کے تحت مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا جرم نہیں سمجھا جا سکتا۔
اس فیصلے کے ساتھ ہی جسٹس بی وی ناگرتھنا اور جسٹس ستیش چندر شرما کی بنچ نے ہرینند سنگھ کے خلاف درج مقدمہ کو خارج کر دیا۔ ہرینندن سنگھ کے خلاف مقدمہ بوکارو میں چاس سب ڈویژن آفس میں ملازم ایک اردو مترجم محمد شمیم الدین نے درج کرایا تھا۔
انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ان کے خلاف استعمال کیے گئے توہین آمیز الفاظ نے ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچایا ہے۔ محمد شمیم الدین کے مطابق، جب وہ آر ٹی آئی درخواست سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے ہرینند سنگھ سے ملنے گئے تو اس نے ان کے مذہب کا ذکر کرتے ہوئے انہیں ’میاں تیان‘ اور ’پاکستانی‘ کہا۔
اس معاملے میں تحقیقات کے بعد پولیس نے ہرینند سنگھ کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس کے بعد جولائی 2021 میں مجسٹریٹ نے اس کے خلاف نوٹس لیا اور اسے سمن جاری کیا۔ اس پر تعزیرات ہند کی دفعہ 353 (سرکاری ملازم کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکنے کے لیے حملہ یا مجرمانہ طاقت)، 298 (مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے الفاظ کا استعمال) اور 504 (امن کی خلاف ورزی کا باعث بننے والی توہین) کے تحت چارج کیا گیا تھا۔
اس کے خلاف ہرینند سنگھ نے ضلعی عدالت سے رجوع کیا، لیکن اسے کوئی راحت نہیں ملی۔ اس کے بعد اس نے جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ جب ہائی کورٹ نے بھی سماعت کے بعد اسے ڈسچارج کرنے سے انکار کر دیا تو اس نے سپریم کورٹ میں اپیل کی۔ سماعت کے دوران، سپریم کورٹ نے پایا کہ ایف آئی آر میں ملزم کی طرف سے کوئی حملہ یا طاقت کا استعمال نہیں کیا گیا ہے، اس لیے آئی پی سی کی دفعہ 353 لاگو نہیں ہوتی۔
اس کے علاوہ ملزم نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی تھی جس سے امن کی خلاف ورزی کی صورتحال پیدا ہو، اس لیے اس پر آئی پی سی کی دفعہ 504 کے تحت فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے کہا کہ ’میاں تیاں‘ اور ’پاکستانی‘ جیسے الفاظ کا استعمال یقیناً غیر مناسب اور برے رویے کی نشاندہی کرتا ہے لیکن یہ دفعہ 298 کے تحت جرم کے درجے میں نہیں آتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

