Bharat Express DD Free Dish

Yogi Govt on Sambhal Jama Masjid: کنواں ہی نہیں، سنبھل مسجد بھی سرکاری زمین پر ہے… یوگی حکومت نے سپریم کورٹ میں کہی یہ بڑی بات

یوپی حکومت کی اسٹیٹس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جامع مسجد کے افسران سرکاری زمین پرقبضہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ کنواں عوامی زمین پرہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ سنبھل جامع مسجد کی پینٹنگ کی اجازت دیتے ہوئے اے ایس آئی کو پھٹکار لگائی ہے۔

سنبھل میں شاہی جامع مسجد کے پاس کے کنویں کو اترپردیش حکومت نے ان 19 قدیم کنوؤں میں سے ایک کے طورپردرج کیا ہے، جن کی تزئین وآرائش کا منصوبہ ہے۔ پیر(24 فروری 2025) کوسپریم کورٹ میں داخل کی گئی اسٹیٹس رپورٹ میں ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ یہ کنواں سرکاری زمین پرہے۔ یہ دعویٰ غلط ہے کہ یہ مسجد کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ شاہی جامع مسجد پرہری ہرمندرہونے کا دعویٰ کردیا گیا ہے، جس کی وجہ سے تنازعہ چل رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کی کارروائی پرعبوری روک لگا رکھی ہے۔ اس درمیان مسجد کمیٹی نے سنبھل میں قدیم کنوؤں کی تلاش اورکھدائی کے خلاف عرضی داخل کی ہے۔ مسجد فریق کی طرف سے خاص طور پراحاطے کے پاس کنویں سے متعلق اسٹیٹس کو بنائے رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ کنویں کی کھدائی اوراسے مندرکا کنواں کہنے سے وہاں پوجا شروع ہوجائے گی۔ 10 جنوری کو سپریم کورٹ نے سنبھل میں شاہی جامع مسجد کے پاس کے کنویں کو ہری ہرمندرکا کنواں کہنے والے نگرپالیکا کے نوٹیفکیشن پر سپریم کورٹ نے روک لگا دی تھی۔

سپریم کورٹ نے 25 فروری کواگلی سماعت کی بات کہتے ہوئے یوپی حکومت سے اسٹیٹس رپورٹ مانگی تھی۔ اب یوپی حکومت نے جواب داخل کردیا ہے۔ یوگی حکومت نے کہا ہے کہ مسجد کمیٹی نے غلط فوٹو گراف پیش کرکے عدالت کوگمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ کنواں مسجد احاطے کے پاس ہے، اس کے اندرنہیں۔ کنویں کا مسجد سے کوئی تعلق نہیں۔ شاہی مسجد خود ہی عوامی زمین پرتعمیرہے۔

لمبے وقت سے کنویں کا استعمال سبھی طبقے کے لوگ کرتے رہے ہیں۔ 1978 میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد کے بعد کنویں کے ایک حصے پر پولیس چوکی بنا دی گئی۔ دوسرا حصہ اس کے بعد بھی استعمال میں بنا رہا، لیکن 2012 کے آس پاس اس کنویں کوڈھک دیا گیا۔ یہ کنواں ن 19 قدیم کنویں میں سے ایک ہے، جن کی تزئین وآرائش میں ضلع انتظامیہ مصروف ہے۔ یہ تاریخی کنویں سنبھل کوثقافتی شناخت دیں گے۔

نئی ثقافتی شناخت سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کوراغب کرے گی۔ انتظامیہ کئی سہولیات جیسے چکرلگانے والا راستہ، سائن بورڈ وغیرہ تیار کرنے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔ مسجد کمیٹی علاقے کی ترقی کوروکنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس کنویں میں ابھی موجودہ وقت میں پان نہیں ہے۔ انتظامیہ کا مقصد اس کنویں کے ذریعہ بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی (واٹرہارویسٹنگ)، واٹرریچارج اوردیگرمقاصد کو بھی پورا کرنا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read