قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے زیر اہتمام وکست بھارت کا وژن اردو زبان کا مشن کے عنوان سے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں منعقدہ سہ روزہ عالمی کانفرنس نہایت کامیابی کے ساتھ آج اختتام پذیر ہوگئی ۔ اختتامی تقریب کے مہمان اعزازی پروفیسر غضنفر نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ کانفرنس ہر اعتبار سے نہایت کامیاب رہی اور افتتاحی پروگرام سے لے کر آخری سیشن تک اردو زبان کی ہمہ جہت ترقی کے حوالے سے نہایت قیمتی نکات سامنے آئے۔ انھوں نے کہا کہ ہند و بیرونِ ہند کے موقر دانشوران نے اس کانفرنس کے مختلف اجلاسوں میں اردو تعلیم کی بہتری ، اردو رسم الخط کے تحفظ اور مجموعی ترقی کے لیے جو باتیں کی ہیں ضروری ہے کہ ہم ان پر عملی اقدامات بھی کریں۔ انھوں نے کہا کہ روزانہ تکنیکی اجلاسوں کے ساتھ رقص و موسیقی، مشاعرے اور محفل قوالی کا انعقاد بھی اس کانفرنس کی ایک امتیازی خصوصیت تھی جس نے اردو زبان کے روشن و قابلِ فخر ثقافتی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ پروفیسر غضنفر نے اردو کو گلاب سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ زبان ہندوستان کی رنگارنگ ثقافت کی خوب صورت عکاسی کرتی ہے۔
کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کے تاریخی مراحل پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو ایک لچک دار اور تغیرات کو قبول کرنے والی زبان ہے، اس نے ہمیشہ قومی، سماجی و ثقافتی ضروریات کو ملحوظ رکھا اور سائنٹفک سوچ کو قبول کرنے میں کسی جھجھک سے کام نہیں لیا ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ وکست بھارت کی تعمیر کے لیے بھی اردو کو نئے ٹرینڈز سے ہم آہنگ ہونا ہے اور ہمارے دانشوران کو قومی تقاضوں کی تکمیل کے لیے تیار رہنا ہے۔ شمس اقبال نے کہا کہ ہمیں اپنی زبان کو لے کر زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، اردو کا حال بھی خوش آیند ہے اور مستقبل بھی امکانات سے معمور ہے۔ انھوں نے کہا کہ سرکاری سطح پر بھی اس زبان کو بھرپور معاونت و حمایت حاصل ہے، البتہ ہمیں اپنے حصے کی ذمے داری ادا کرنے کی ضرورت ہے ، ہم اردو کو روزمرہ ضروریات کا حصہ بنائیں، اس کے فروغ کے لیے ہر شخص کو انفرادی طور پر کوششیں کرنی چاہئیں، ہر قسم کے احساس کمتری سے نکل کر اپنی زبان کے تحفظ کے لیے کام کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر اقبال نے کہا کہ اس وقت ہندوستان کی مختلف زبانوں کے ادبِ عالیہ کا اردو ترجمہ اور اردو کے اچھے ادب کا دوسری زبانوں میں ترجمہ ہونا ضروری ہے تاکہ ہندوستانی زبانوں کے درمیان پائے جانے والے فاصلے کو دور کیا جا سکے۔آخر میں ڈاکٹر شمس اقبال نے کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے کانفرنس میں شریک تمام قومی و بین الاقوامی مہمانوں ، اپنے معاونین ، وزارتِ تعلیم ، خصوصاً وزیر اعظم نریندر مودی جی کا شکریہ ادا کیا کہ اس کانفرنس کے انعقاد میں حکومت کا ہرقدم پر بھرپور تعاون حاصل رہا۔
قبل ازاں صبح دس بجے کانفرنس کا پانچواں تکنیکی اجلاس ‘ اردو تخلیقات میں سماجی ، ثقافتی و سیاسی اقدار کی عکاسی ‘ کے عنوان سے ہوا، جس کے مقالہ نگار پروفیسر محمد زماں آزردہ اور پروفیسر آفتاب احمد آفاقی تھے، شرکائے بحث پروفیسر مشتاق عالم قادری، ڈاکٹر عبداللہ امتیاز احمد ، ڈاکٹر سورج دیو سنگھ ، ڈاکٹر نازیہ بیگم جافو خان اور ڈاکٹر بالمیکی رام تھے جبکہ اس اجلاس کی صدارت پروفیسر اعجاز علی ارشد اور پروفیسر مظفر علی شہ میری نے کی۔ اس اجلاس کے خطابات اور مقالوں میں اردو ادب کی اس خصوصیت کو نمایاں کیا گیا کہ یہ نہ صرف ہندوستانی زبانوں کے الفاظ و مزاج کا آمیزہ ہے بلکہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی عکاسی بھی اس زبان میں سب سے زیادہ ہوئی ہے۔اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر ثاقب فریدی نے کی۔
چھٹا تکنیکی اجلاس’ اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے آرٹیفیشیل انٹیلی جنس کا استعمال’ کے عنوان سے ہوا ۔ اس کے مقالہ نگاروں میں پروفیسر رحمت یوسف زئی اور ڈاکٹر پرویز احمد تھے۔ ڈاکٹر شمیم احمد اور جناب احمد اشفاق نے بحث میں حصہ لیا ۔اس سیشن کی صدارت پروفیسر اعجاز احمد شیخ اور پروفیسر محمد جہانگیر وارثی نے کی۔اس سیشن کے شرکا نے مشینی ترجمے اور اے آئی کے مختلف پلیٹ فارمز کا جائزہ لیتے ہوئے اردو کو جدید ٹکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا۔ اس سیشن کی نظامت ڈاکٹر عبدالحی نے کی۔
ساتواں اور آخری سیشن ‘ بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کے درمیان ہموار رابطے کا استحکام’ کے عنوان سے تھا، جس کے مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر ثاقب ہارونی اور ڈاکٹر نیلوفر خوجیوا تھے، جبکہ شرکائے بحث ڈاکٹر قاسم خورشید، ڈاکٹر سراج الدین نور متوف اور ڈاکٹر احسن ایوبی تھے۔ اس سیشن کی صدارت پروفیسر حسنین اختر اور ڈاکٹر محیا عبدالرحمن نے کی۔ اس سیشن کی نظامت کے فرائض نایاب حسن نے انجام دیے ۔شام چھ بجے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں ‘ شامِ صوفیانہ’ کا اہتمام کیا گیا ، جس میں نظامی بندھو نے اپنی خوبصورت قوالی سے سامعین کو محظوظ کیا۔ اس سے قبل تعارفی کلمات نہاں رباب اور فیضان الحق نے پیش کیے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
