فوٹو- سوشل میڈیا۔
سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں بھارت میں OTT پلیٹ فارم کی نگرانی اور انتظام کے لیے ایک ریگولیٹری بورڈ کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ عرضی سپریم کورٹ کے وکیل ششانک شیکھر نے دائر کی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ تھیٹروں میں دکھائی جانے والی فلموں کے برعکس، OTT مواد ریلیز سے قبل سرٹیفیکیشن کے عمل سے نہیں گزرتا۔ جس کی وجہ سے OTT پر اکثر مناسب وارننگ کے بغیر ہی فحش مناظر، تشدد، منشیات کا استعمال اور دیگر نقصان دہ مواد میں اضافہ ہوا ہے۔
کمیٹی میں کسے رکھنے کا مطالبہ؟
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موجودہ قوانین کافی نہیں ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ حکومت اس پلیٹ فارم پر پیش کیے جانے والے مواد کی نگرانی کے لیے ایک ریگولیٹری بورڈ تشکیل دے۔ سکریٹری سطح کے آئی اے ایس کی صدارت میں تشکیل پانے والے اس بورڈ میں فلم، سنیماٹوگرافی، میڈیا، دفاعی خدمات، قانون اور دیگر مضامین کے ماہرین کو شامل کیا جانا چاہیے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت نے آئی ٹی ایکٹ 2021 بنایا، لیکن اس اصول کا OTT مواد پر کوئی اثر نہیں ہے۔
مرکزی حکومت نے داخل کیا حلف نامہ
آپ کو بتاتے چلیں کہ مرکزی حکومت نے او ٹی ٹی کو لے کر 2021 میں سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا تھا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ کئی ریاستوں کے ممبران پارلیمنٹ اور وزرائے اعلیٰ کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم کے مواد سے متعلق مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ اس لئے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم، او ٹی ٹی، ڈیجیٹل میڈیا کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز، 2021 کا مسودہ تیار کرنا پڑا۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس ایکٹ کے سیکشن 67، 67 اے اور 67 بی میں ایک پروویژن ہے کہ حکومت قابل اعتراض مواد پر پابندی لگا سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
