Urdu Conclave 2026

Sanjay Singh On BJP: اگر ایوان میں چیئرمین نہ ہوتے، سنجے سنگھ نے بی جے پی پرلگایا سنگین الزامات، وہ ذات کی مردم شماری کیوں نہیں کرانا چاہتے؟

اے اےپی کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے کہا، “جس طرح سے بی جے پی ممبران اسمبلی نے کل ایوان میں برتاؤ کیا وہ بی جے پی کا غیر اخلاقی رویہ ظاہر کر رہا ہے۔

دہلی اسمبلی الیکشن 2025 کے نتائج سے پہلے سنجے سنگھ نے بی جے پی پر بڑا الزام لگایا ہے۔

سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ  کے ذریعہ  جمعہ کو جیسے ہی راجیہ سبھا میں ایک پرائیویٹ بل لاتے ہی ہنگامہ ہونے لگ گیا۔ عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی سنجے سنگھ نے ہفتہ کو اس معاملے پر بی جے پی پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ ہمیشہ پسماندہ طبقات، دلتوں اور قبائلیوں کے خلاف تھی اور رہے گی۔

 اے اےپی کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے کہا، “جس طرح سے بی جے پی ممبران اسمبلی نے کل ایوان میں برتاؤ کیا وہ بی جے پی کا غیر اخلاقی رویہ ظاہر کر رہا ہے۔ کل صورتحال اس حد تک پر پہنچ گئی تھی کہ ہمیں لگا کہ اسمبلی میں لڑائی ہونے والی ہے۔ اگر چیئرمین ایوان میں نہ ہوتے تو  میر ےساتھ مار پیٹ  کی  ہوسکتی  تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ نمبر 5 سنہری باغ روڈ اب بنے گا راہل گاندھی کی نئی رہائش، جانئے بنگلے سے جڑی خاص باتیں

او بی سی کو آبادی کے حساب سے ریزرویشن ملنا چاہیے

انہوں نے کہا کہ ایس پی ایم پی کے او بی سی ریزرویشن بل لانے سے بی جے پی بہت ناراضگی ہوئی ۔ ایس پی ایم پی نے پرائیویٹ ممبر بل کے ذریعے مطالبہ کیا تھا کہ او بی سی کو ان کی آبادی کے مطابق ریزرویشن ملنا چاہیے۔ اس بل پر بی جے پی نے اتنا ہنگامہ کیا کہ ایوان کو ایک گھنٹے کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔ اس پر سنجے نے کہا کہ جب تک میں ایوان میں ہوں،  کسی بھی اپوزیشن پارٹی کے کسی رکن کے ساتھ غلط نہیں ہونے دوں گا اور بولتا رہوں گا۔

 اے اے پی ایم پی سنجے سنگھ نے ہفتہ کو کہا، “کانگریس ایم پی نیرج ڈانگی (راجیہ سبھا میں) کے ساتھ جو دلت برادری سے تعلق رکھتے ہیں ، اس سے بی جے پی کا دلت مخالف اور قبائل مخالف چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔ بی جے پی پسماندہوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔ وہ ذات کی مردم شماری کیوں نہیں کرانا چاہتے؟

بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read