نئی دہلی :کیرالہ، آسام اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کے تحت مجموعی طور پر 296 نشستوں پر ووٹنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ تینوں ریاستوں میں پرامن اور شفاف انتخابات کے لیے بھاری تعداد میں سیکورٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔ کیرالہ میں آج ہونے والے اسمبلی انتخابات میں تقریباً 2.71 کروڑ ووٹر اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ اس انتخابی معرکے میں حکمراں بائیں بازو کے جمہوری محاذ (ایل ڈی ایف) کی مسلسل تیسری بار اقتدار میں واپسی، اپوزیشن متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) کی اقتدار میں واپسی کی امیدوں اور قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی ریاست میں کھاتہ کھولنے کی کوششوں کا امتحان ہوگا۔
اسی طرح کیرالہ کی تمام 140 اسمبلی نشستوں پر ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ جاری ہے، جہاں 883 امیدوار میدان میں ہیں۔ ریاست میں تقریباً 2.71 کروڑ ووٹرز آج اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ حکمراں بائیں بازو کا جمہوری محاذ (ایل ڈی ایف) مسلسل تیسری بار اقتدار میں واپسی کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) کھوئی ہوئی زمین واپس حاصل کرنے کی جدوجہد میں ہے۔ اس کے علاوہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) بھی ریاست میں اپنا کھاتہ کھولنے کی امید لگائے بیٹھا ہے۔ادھر پڈوچیری میں بھی ووٹنگ جاری ہے، جہاں 9.50 لاکھ ووٹرز 294 امیدواروں کے مستقبل کا فیصلہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) میں درج کر رہے ہیں۔ تینوں ریاستوں میں ووٹنگ کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ انتخابات کو شفاف اور پرامن طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔
دوسری جانب آسام میں بھی سیاسی ماحول گرم ہے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے کانگریس پارٹی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس لیڈر مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں اور جعلی دستاویز جاری کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں سرما نے کہا کہ کانگریس رہنما اپنے ہی ساتھیوں کو مشکلات میں ڈال رہے ہیں اور ایک بار پھر جعلی دستاویزات کا ایک سیٹ جاری کیا گیا ہے، جسے ان کی ٹیم پہلے ہی بے نقاب کر چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ اب سیاست نہیں بلکہ کھلا دھوکہ ہے۔ سرما کے مطابق آسام کے عوام جلد ہی اس کا مناسب جواب دیں گے اور کانگریس قیادت کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔
انتخابی افسران کے مطابق آسام کی 126 اسمبلی نشستوں پر 722 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے 31,940 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ریاست کے 35 اضلاع میں پرامن ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن نے ڈیڑھ لاکھ سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔ حساس پولنگ اسٹیشنوں کی نگرانی کے لیے خصوصی طور پر مائیکرو آبزرورز بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ آسام میں اصل مقابلہ حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان ہے، جہاں ووٹرز بڑی تعداد میں پولنگ مراکز پر پہنچ کر اپنے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


