Bharat Express DD Free Dish

Pakistan-Afghanistan Clash: پاک–افغان سرحد پر شدید فائرنگ، چار افراد ہلاک، متعدد زخمی، دونوں جانب ایک دوسرے پر پہلے حملے کا الزام

کوئٹہ کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فائرنگ رات تقریباً 10 بجے شروع ہوئی اور دیر رات تک جاری رہی۔ چمن ڈسٹرکٹ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق ایک خاتون سمیت تین زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ چمن سرحد پر دونوں جانب سے بھاری فائرنگ اور گولہ باری کی اطلاعات ہیں۔ افغان حکام کے مطابق پاکستان کی جانب سے کی گئی شدید فائرنگ میں چار افغان شہری مارے گئے ہیں، جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔ اسپین بولڈک ضلع کے گورنر نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں ضلع اسپتالوں میں زخمیوں کو لائے جانے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، قابل ذکر  پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی جانب کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

پہل کس نے کی؟ دونوں ممالک کے بیانات متضاد

5 دسمبر 2025 کی شام فائرنگ کے آغاز کے بعد دونوں ملک ایک دوسرے پر پہلے حملے کا الزام لگا رہے ہیں۔ پاکستانی اخبار ڈان کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان فورسز نے بدّانی علاقے میں مارٹر فائر کیے تھے۔ اس کے برعکس افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ اسپین بولڈک پر حملہ پاکستان نے کیا، جس کا طالبان فورسز نے جواب دیا۔پاکستانی سرکاری ذرائع نے بھی ڈان کو بتایا کہ پاکستانی دستوں نے افغان فائرنگ کا جواب دیا تھا۔ چمن–قندھار ہائی وے پر بھی فائرنگ کی اطلاعات ہیں، قابل ذکر بات یہ ہے کہ  ان کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

کوئٹہ کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فائرنگ رات تقریباً 10 بجے شروع ہوئی اور دیر رات تک جاری رہی۔ چمن ڈسٹرکٹ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق ایک خاتون سمیت تین زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (ISPR) یا وزارتِ خارجہ کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا۔

پچھلے ماہ بھی کشیدگی برقرار رہی

چمن سرحد، جسے ’فرینڈشپ گیٹ‘ بھی کہا جاتا ہے، بلوچستان کو افغانستان کے صوبہ قندھار سے جوڑتی ہے۔ گزشتہ ماہ دونوں ممالک میں شدید تناؤ کے بعد ایک جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ  پاکستان کے وزارتِ خارجہ نے واضح کیا تھا کہ تکنیکی طور پر جنگ بندی نافذ نہیں ہے، کیونکہ یہ اس بات پر منحصر تھی کہ افغان طالبان پاکستان میں دہشت گرد حملے روکیں — اور وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔اس تازہ جھڑپ نے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بار پھر سنگین تناؤ پیدا کر دیا ہے، جب کہ سرحدی علاقوں میں صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read