Bharat Express DD Free Dish

YSRCP

آندھرا پردیش کے سابق وزیراعلیٰ جگن موہن ریڈی نے راہل گاندھی پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ آندھرا پردیش میں ووٹنگ خامیوں پر خاموش ہیں۔ ریڈی نے ووٹوں میں 12.5 فیصد کے فرق کو سنگین بتایا۔

آندھرا پردیش کی سیاست میں بڑا الٹ پھیردیکھنے کوملا ہے۔ وائی ایس آرسی پی کی ایم ایل سی اورآندھرا پردیش قانون ساز کونسل کی ڈپٹی اسپیکرمیانا ذکیہ نے پارٹی سے استعفیٰ دے کر بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے۔ یہ قدم وائی ایس آرسی پی کے لئے ایک بڑا جھٹکا ہے۔

بتا دیں کہ امریکی محکمہ انصاف نے الزام لگایا ہے کہ اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے شمسی توانائی کے سازگار معاہدوں کے لیے ہندوستانی حکام کو 250 ملین امریکی ڈالر رشوت دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ بھارتی گروپ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ریڈی نے چیف منسٹر کے طور پر اپنے دور میں کئی بار اڈانی سے ملاقات کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ملاقاتیں کاروباری لیڈروں اور ریاستی سربراہوں کے لیے معمول کی بات ہیں۔

وائی ایس آر کانگریس کے ایک لیڈر نے کہا کہ زیر تعمیر دفتر کو منہدم کیا جا رہا ہے جبکہ وائی ایس آر سی پی نے گزشتہ روز سی آر ڈی اے کے ابتدائی اقدامات کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے انہدام کی کسی بھی سرگرمی کو روکنے کا حکم دیا تھا۔

اس بار آندھرا پردیش میں وائی ایس آر سی پی اور این ڈی اے کے درمیان سیدھا مقابلہ دیکھا گیا۔ این ڈی اے میں ٹی ڈی پی، جنا سینا اور بی جے پی شامل ہیں۔ اسمبلی انتخابات کے لیے کل 2,387 امیدوار میدان میں ہیں، جب کہ 25 لوک سبھا سیٹوں کے لیے 454 امیدوار میدان میں ہیں۔