Bharat Express DD Free Dish

West Bengal Politics

یہ واقعہ اتوار کو اس وقت پیش آیا جب ممتا بنرجی شمالی 24 پرگنہ جا رہی تھیں۔ وہ وہاں ٹی ایم سی کے ایک متوفی کارکن کے اہل خانہ سے ملاقات کرنے والی تھیں۔ ان کے ساتھ لوک سبھا رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی اور راجیہ سبھا رکن ڈولا سین بھی موجود تھیں۔

ترنمول کانگریس سربراہ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حالات پر نظر رکھیں اور سوچیں کہ کیا بنگال اپنی شناخت کھو دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے بی جے پی نے کئی وعدے کیے تھے، لیکن اب ان پر کوئی عمل نظر نہیں آتا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ پولیس کا احترام کرتی ہیں، لیکن ان کا الزام ہے کہ بعض اہلکاروں کو سیاسی کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔  انہوں نے کہا ’’مجھے کہا جا رہا ہے کہ یا تو دوسرے گروپ میں شامل ہو جاؤ یا پھر جیل جانے کے لیے تیار رہو۔ کیا یہی پولیس کا کام ہے؟‘‘

 سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اورٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی نے کہا کہ ہمیں زبردستی ہرایا گیا۔ ایک دن یہ ثابت ہوجائے گا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ اگرمیں نے سمجھوتہ کیا ہوتا تو ہمیں یہ سب نہیں جھیلنا پڑتا، لیکن میں اپنا ضمیر نہیں بیچتی۔ انہوں نے کہا کہ جب بی جے پی مرکز کے اقتدار سے باہر ہوگی تو یہی خوف اس کے زوال کا سبب بنے گا۔

مدن مترا نے اے آئی ٹی سی سے استعفیٰ دے کر رتبرتا بنرجی کی قیادت والے باغی دھڑے کا دامن تھام لیا ہے جو ممتابنرجی گروپ کے لیے ایک بڑا جھٹکا مانا جارہا ہے۔ مدن مترا نے ابھیشیک بنرجی پر پارٹی کو نقصان پہنچانے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔

ممتا بنرجی کی ٹی ایم سی کے راجیہ سبھا ایم پی رہے سشمتا دیو، سوکھیندو شیکھررائے اور پرکاش باریک اب بی جے پی میں شامل ہوگئے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر شمک بھٹا چاریہ نے تینوں لیڈران کے بی جے پی میں شامل ہونے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ مغربی بنگال اسمبلی الیکشن کے نتائج کے بعد تینوں نے ٹی ایم سی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

ممتا بنرجی کو کلکتہ ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ ہائی کورٹ نے انہیں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے بینک اکاونٹ کوآپریٹ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

پیر کے روز مغربی بنگال میں اپوزیشن لیڈر رتبرتا بنرجی کی قیادت میں ایک باغی گروپ نے آل انڈیا ترنمول کانگریس کے لیے نئی قیادت کے ڈھانچے کا اعلان کیا تھا۔ باغیوں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی پارٹی میں سرپرست (مینٹور) کا کردار ادا کریں۔

مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس میں بڑی بغاوت ہوئی ہے۔ رتبرتا بنرجی کی قیادت میں باغی اراکین اسمبلی نے ممتا بنرجی کو چیئرپرسن کے عہدے سے ہٹاکر انوپ رائے کو نیا صدر منتخب کرلیا ہے۔ ابھیشیک بنرجی کو پارٹی سے معطل کردیا گیا ہے۔ 60 اراکین اسمبلی اور 70 کونسلروں کی حمایت سے بنی اس نئی کمیٹی نے ریاست کی سیاست میں بھونچال لا دیا ہے، جس سے پارٹی کے انتخابی نشان سے متعلق بھی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔

کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے افواہوں کی تردید کرتے ہوئے راجیہ سبھا انتخابات میں نامزدگی مسترد ہونے پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وینوگوپال نے مرکزی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے۔

اس موقع کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وزیراعظم مودی کے ساتھ دیگر این ڈی اے رہنما بھی موجود ہیں۔ ویڈیو میں چراغ پاسوان سمیت کئی اہم رہنما دکھائی دے رہے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے خود اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر شیئر کیا۔ ویڈیو کے ساتھ اپنے پیغام میں وزیراعظم نے لکھا، ’’آج این ڈی اے کی میٹنگ میں اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ جھال موڑی کھائی۔‘‘