Bharat Express DD Free Dish

Waqf Board Amendment Bill

احتجاج کرنے والے رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان اپیلوں کے باوجود یہ جماعتیں اس متنازع، امتیازی اور فرقہ وارانہ بل کی حمایت کرتی ہیں اور اسے قانون بننے میں مدد دیتی ہیں تو مسلم کمیونٹی اس ناانصافی کو کبھی نہیں بھولے گی۔

جے پی سی کے چیئرمین اور بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے کہا کہ وہ ملک میں "عدم استحکام" پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ چاہے وہ عمران مسعود ہوں یا اے آئی ایم پی ایل بی، وہ اقلیتوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رام لیلا میدان میں منعقد مہاریلی سے خطاب کرتے ہوئے رکن اسمبلی مامن خان نے مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت وقف بورڈ کو ختم کرنے کی سازش کر رہی ہے، تا ہم حکومت کو اس سازش میں ہم کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

رام لیلا میدان میں منعقد مہاریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر ڈاکٹر ادت راج نے خطاب کیا۔ ڈاکٹر ادت راج  نے کہا کہ 1921 میں برٹش حکومت نے وقف کے لئے قانون بنایا تھا. یہ کانگریس نے نہیں بنایا تھا۔

جے پی سی کے چیئرمین جگدمبیکا پال نے مزید وقت کا مطالبہ کرتے ہوئے مدت کار بڑھانے سے متعلق تجویزلوک سبھا میں پیش کی، جسے منظور کرلیا گیا۔ اس کے بعد ایوان کی کارروائی ملتوی کردی گئی۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے آندھرا اوربہارکے وزرائے اعلیٰ کوکھلے لفظوں میں یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اگرانہوں نے اقتدارمیں بنے رہنے کے لئے وقف ترمیمی بل پرمرکزی حکومت کی حمایت کی تومسلمانوں کی پیٹھ میں خنجرگھوپنے جیسا ہوگا۔

اندرا گاندھی انڈرو اسٹیڈیم میں منعقدہ تحفظِ آئین ہند کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جمعیتہ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے قومی اور بین الاقوامی سمیت متعدد امور پر اظہار خیال کیا۔اس موقع پر تقریباً ایک لاکھ کی جم غفیر موجود تھی۔

ٹی ڈی پی کے نائب صدر نواب جان نے 'تحفظ آئین ہند کنونشن' سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آندھرا پردیش کے وزیراعلی این چندر بابو نائیڈو ایک سیکولر لیڈر ہیں اور ملک کی اتحاد و سالمیت اور کثرت میں وحدت کے حامی ہیں ۔

حکومت ہند نے 1995 کے وقف قانون میں ترمیم کا بل پارلیمنٹ میں متعارف کروایا ہے،اس کے بعد مسلمانوں کی متعدد مذہبی تنظیموں اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے مخالفت کی جارہی ہے ۔

راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ 2004 اور2009 میں بی جے پی نے رحمٰن کمیٹی کو نافذ کرنے کی بات کہی تھی۔ 2013 میں جو وقف ترمیمی بل منظور ہوا تھا اس میں بی جے پی نے بھی ساتھ دیا تھا۔ لیکن اب بی جے پی خود الگ اسٹینڈ لے رہی ہے اور وہ نفرت کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کرنا چاہتی ہے۔