Bharat Express DD Free Dish

Vikram Misri

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت آسٹریلیا کو صاف شدہ پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہے، جبکہ آسٹریلیا طویل عرصے سے بھارت کو کوئلہ اور قدرتی گیس جیسی اہم توانائی مصنوعات فراہم کرتا آ رہا ہے۔

وکرم مسری پاکستان، یورپ اور امریکہ میں مختلف سفارتی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ وہ میانمار اور چین میں ہندوستان کے سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ، کواڈ ممالک اور یورپی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تزویراتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

آنگ سان سوچی کا معاملہ میانمار میں 2021 کے فوجی اقتدار سنبھالنے کے بعد عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا تھا۔ فوج نے منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سوچی کے خلاف متعدد مقدمات قائم کیے تھے، جن میں بدعنوانی، کووڈ ضوابط کی خلاف ورزی اور فوج کے خلاف عوامی اشتعال انگیزی جیسے الزامات شامل تھے۔ بعد ازاں انہیں طویل قید کی سزا سنائی گئی، جسے بعد میں گھر میں نظربندی میں تبدیل کر دیا گیا۔

وکرم مصری اور ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل کی ملاقات سکیورٹی امور پر مرکوز رہی۔ بھارتی سفارت خانے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے میں بھارت-امریکہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر گفتگو کی۔

آیت اللہ علی خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر کے منصب پر فائز تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اس واقعے پر عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں۔ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں واقع ایرانی سفارت خانے پر بھی بڑی تعداد میں لوگ تعزیت کے لیے پہنچے۔

اس سے قبل جمعرات کو چیئرپرسن پرونک کی سربراہی میں یورپی وفد نے دفاعی سیکریٹری راجیش کمار سنگھ سے ملاقات کی تھی۔

وزیر اعظم مودی نے پاک بھارت جنگ بندی کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ اس میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں تھا۔ امریکی صدر کے ساتھ 35 منٹ کی بات چیت میں پی ایم مودی نے واضح طور پر کہا کہ ہندوستان نے کبھی بھی تیسرے فریق کی ثالثی کو قبول نہیں کیا ہے اور آئندہ بھی ایسی ثالثی کو قبول نہیں کرے گا۔ خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے میڈیا کو اس بات چیت کی جانکاری دی۔

میٹنگ کے دوران دونوں پڑوسی ممالک نے براہ راست پروازوں کو دوبارہ شروع کرنے سمیت ’’عوام پر مرکوز مصروفیات‘ کو ترجیح دیتے ہوئے تعلقات کو دوبارہ استوار کرنے کا فیصلہ کیا۔

سب سے پہلا وفد کل یعنی جمعرات کے روز یو اے ای جانے کے لیے تیار ہے۔ ان پارلیمانی وفود کے غیرملکی دوروں سے قبل آج خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے انھیں ضروری بریفنگ دی ہے۔

سیکرٹری خارجہ وکرم مسری کا کہنا تھا کہ اس آپریشن میں پاکستان کی کسی ایٹمی سائٹ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی پاکستان کی طرف سے کوئی ایٹمی خطرہ یا اشارہ دیا گیا۔