Bharat Express DD Free Dish

Venezuela

وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات مزید جارحانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بار ان کی توجہ کسی مخالف ریاست پر نہیں بلکہ امریکہ کے ایک پرانے اتحادی اور نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کے زیرِ انتظام خود مختار خطے گرین لینڈ پر مرکوز ہے۔ ٹرمپ نے کھلے عام کہا ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنا ضروری ہے، جس کے بعد یورپ اور امریکہ دونوں میں سفارتی ہلچل مچ گئی ہے۔

وینزویلا کے خلاف امریکہ کی حالیہ کارروائی کے بعد عالمی سیاست میں واضح دراڑ نظر آ رہی ہے اور دنیا دو بڑے خیموں میں بٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف وہ ممالک ہیں جو امریکی اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایسے ممالک بھی ہیں جو کھل کر امریکہ کے موقف اور کارروائی کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی سفارتی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

وینزویلا کے خلاف امریکہ کی حالیہ کارروائی پر عالمی سطح پر ردعمل تیز ہو گیا ہے۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے امریکی اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اپنی طاقت کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک خود مختار ملک کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس سے عالمی نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان میں واضح تضاد بھی نظر آیا۔ دراصل اس سے ایک دن قبل انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ڈیلسی روڈریگز سے بات چیت ہوئی ہے اور وہ امریکہ کی شرائط پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ میں وینزویلا میں ہونے والی پیش رفت پر شروع ہی سے نظر رکھے ہوئے ہوں۔ اٹلی نے اپنے اہم بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مادورو کی جانب سے خود اعلان کردہ انتخابی جیت کو کبھی تسلیم نہیں کیا، حکومت کے جابرانہ اقدامات کی مذمت کی اور ہمیشہ وینزویلا کی عوام کی جمہوری تبدیلی کی امیدوں کی حمایت کی ہے۔

ممبئی میں ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہاکہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی فوج بھیج کر وینزویلا کے صدر کو گرفتار کر کے امریکہ لا سکتے ہیں، تو آپ بھی پاکستان جا کر26/11 کے ملزمان کو پاکستان سے لائیں۔

وینزویلا کے صدر کے ساتھ جو کارروائی کی گئی، اس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے خودمختار ملک کے خلاف زبردستی اور اس کے صدر کے خلاف کی گئی کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔

کملا ہیرس نے واضح طور پر کہا کہ ٹرمپ کی اس کارروائی سے امریکہ نہ تو زیادہ محفوظ ہوگا، نہ مضبوط اور نہ ہی سستا۔ انہوں نے لکھا کہ اگرچہ مادورو ایک آمر ہیں، لیکن اس طرح کا قدم سراسر بے وقوفانہ اور قانون کے خلاف ہے۔

امریکہ کی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا میں بڑی سیاسی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ وینزویلا کی سپریم کورٹ آف جسٹس نے ہفتہ کی دیر رات نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو ملک کی عبوری صدر مقرر کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد ملک میں استحکام آنے تک امریکہ عارضی طور پر وینزویلا کے انتظامی امور سنبھالے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد سیاسی بے چینی کو روکنا، معاشی نظام کو بحال کرنا اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کی ازسرنو تعمیر کو یقینی بنانا ہے، تاکہ ملک کو ایک محفوظ اور ذمہ دار قیادت کی طرف منتقل کیا جا سکے۔