Bharat Express DD Free Dish

Venezuela

رواں سال 30 جنوری کو وزیر اعظم نریندر مودی اور ڈیلسی روڈریگیز کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو بھی ہوئی تھی، جس میں دونوں لیڈروں نے دوطرفہ تعلقات، عالمی امور اور باہمی مفاد کے مختلف شعبوں پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ بعد ازاں جاری مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، صحت، زراعت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنے تیل کے کاروبار کو مزید وسعت دے گا اور وینزویلا کے تیل کو عالمی منڈی میں فروخت کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں، جو عالمی تیل کے کل ذخائر کا تقریباً 17 فیصد بنتے ہیں۔

حادثے کی جگہ ایک دور دراز اور پہاڑی علاقہ ہے، جو وینزویلا کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہ علاقہ گھنے جنگلات پر مشتمل ہے اور یہاں موسم بھی اچانک بدل جاتا ہے، جس کے باعث تلاش اور امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ حکام کے مطابق انہی وجوہات کی بنا پر ملبے تک پہنچنے میں وقت لگا۔

جھڑپیں ایل ریٹرنو کے دیہی علاقوں میں ہوئی ہیں، جو بوگوٹا سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے، اور اس کا علاقہ کوکین کی پیداوار و اسمگلنگ کے لیے اہم ہے۔ جھڑپیں فریک کے ان دو دھڑوں کے درمیان ہوئیں: ایک کی قیادت نیسٹر گریگوریو ویرا (جسے ایوان مورڈیسکو کے نام سے جانا جاتا ہے) کر رہا تھا،

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی خارجہ اور داخلی پالیسیوں پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے، اسی دوران چین کے سرکاری میڈیا نے ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ویڈیو کے ذریعے ٹرمپ حکومت کا مذاق اڑایا ہے۔

امریکہ نے وینزویلا سے منسلک تیل بردار جہازوں کو ضبط کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ عالمی توانائی سپلائی پر اپنا کنٹرول مضبوط کیا جا سکے۔ اس اقدام کا سب سے بڑا نقصان کیوبا کو ہو رہا ہے، جہاں پہلے ہی بجلی کی شدید قلت ہے اور اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حالات مزید بگڑ کر بڑے پیمانے پر عدم استحکام کا سبب بن سکتے ہیں۔

چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق امریکی شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سڑک کے ذریعے سفر کے دوران انتہائی محتاط رہیں اور ایئرلائنز کی جانب سے جاری تازہ اطلاعات اور ویب سائٹس پر مسلسل نظر رکھیں۔

پاکستانی وزیر دفاع خُواجہ آصف نے ایک ایسا بیان دیا ہے جس نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کو "انسانیت کا مجرم" قرار دیتے ہوئے امریکہ اور ترکی سے اپیل کی کہ نتن یاہو کو اغوا کر کے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

گزشتہ ہفتے میکسیکن وزیر خارجہ نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے اسے علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا تھا۔ مادورو کو اغوا کرنے کے بعد ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کے خلاف بھی نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوجی کارروائی کے ذریعے بغیر طویل جنگ کے دباؤ بنایا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ فوجی طاقت کا استعمال گولیاں چلانے کے لیے نہیں بلکہ وینزویلا کی تیل سپلائی کو روکنے کے لیے کیا گیا۔