Bharat Express DD Free Dish

Venezuela

وینزویلا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے بعد نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کسی دباؤ یا طاقت کے آگے نہیں جھکے گا۔

ماچاڈو آزاد منڈی اور امریکی سرمایہ کاری کے ذریعے وینزویلا کی معیشت کو دوبارہ مضبوط کرنے کی حامی رہی ہیں اور ڈونالڈ ٹرمپ کی وینزویلا پالیسی کی کھلے عام تائید کرتی ہیں۔

امریکی حملے کے بعد ایک نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے مادورو کو پہلے ہی خود سپردگی کی وارننگ دی تھی۔ ٹرمپ کے مطابق تقریباً ایک ہفتہ قبل مادورو سے ان کی بات چیت ہوئی تھی، جس میں انہوں نے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ انہیں سرنڈر کرنا ہوگا۔

اچانک دھماکوں کے باعث عوام میں اس قدر خوف پھیل گیا کہ لوگ کنفیوژن اور غیر یقینی صورتحال کے عالم میں اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ دھماکوں کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں، جن میں دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حالانکہ ان تصاویر اور ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

مقامی وقت کے مطابق پہلا دھماکا رات تقریباً ایک بج کر پچاس منٹ پر ہوا، جس کے بعد مزید چھ زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ صدارتی محل کے اطراف میں مسلسل سائرن بجتے رہے اور فوجی گشت بڑھا دی گئی

وینزویلا نے بھی فوجی ہتھیاروں، سازوسامان اور فوجیوں کی بڑے پیمانے پر تعیناتی سمیت اہم فوجیوں کی تشکیل کا اعلان کیا ہے۔ نتیجتاً دونوں ملکوں کی عسکری سرگرمیوں نے سنگین تصادم کے امکانات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

امریکی فوج نے کیریبین سمندر میں ایک فوجی کارروائی کی ہے۔ یہ حملہ ایک مشتبہ منشیات اسمگلنگ والی کشتی پر کیا گیا ہے۔ اس حملے میں کچھ لوگ زندہ بھی بچ گئے ہیں۔ اس کے بعد امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات میں مزید کشیدگی بڑھنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

وینیزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا مچادو کو اس سال کا امن کا نوبل انعام ملا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ انہیں کس کام کے لیے یہ اعزاز دیا گیا ہے؟

ایران پر امریکی حملوں پر ردعمل آنے شروع ہو گئے ہیں اور پہلے کچھ بیانات لاطینی امریکہ سے ہی آئے ہیں اور ان بیانات میں امریکہ کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

میساچوسٹس میں ایک وفاقی ضلعی عدالت کے جج نے مہاجرین کی عارضی قانونی حیثیت کو مکمل طور پر منسوخ کرنے کے نوئیم کے فیصلے کو روکنے پر اتفاق کیا۔ اس وقت، 23 افراد کے ایک گروپ نے، جس میں کئی پیرولز اور ایک غیر منافع بخش تنظیم بھی شامل تھی، نے نوئیم کے پروگرام کے خاتمے کو چیلنج کیا۔