وینزویلا کی راجدھانی کاراکس پر امریکی فورسز کے مبینہ زبردست حملے کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر ایک تصویر شیئر کی، جس میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو ہتھکڑیوں میں نظر آ رہے ہیں۔ تصویر میں مادورو کی آنکھوں پر کالی پٹی بندھی ہوئی ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں ان کے بیڈروم سے گھسیٹ کر باہر نکالا گیا۔ٹرمپ کے مطابق مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریز کو امریکی جنگی بحری جہاز یو ایس ایس آئیوو جیما پر حراست میں رکھا گیا ہے اور انہیں نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مادورو نیویارک پہنچ چکے ہیں، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
Maduro perp walk. pic.twitter.com/gEwaigwnta
— Breaking911 (@Breaking911) January 4, 2026
امریکی حملے کے بعد ایک نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے مادورو کو پہلے ہی خود سپردگی کی وارننگ دی تھی۔ ٹرمپ کے مطابق تقریباً ایک ہفتہ قبل مادورو سے ان کی بات چیت ہوئی تھی، جس میں انہوں نے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ انہیں سرنڈر کرنا ہوگا۔دوسری جانب وینزویلا کی حکومت نے امریکی ڈیلٹا فورس کے ذریعے مادورو کو گرفتار کیے جانے کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے کھلا حملہ قرار دیا ہے۔ حکومت نے بین الاقوامی برادری سے فوری مدد اور مداخلت کی اپیل کی ہے۔
Apareció Cilia.
Me informaron que Maduro se lastimó una pierna cuando intentó huir.
Aquí parece quejarse de esa lesión.Video Cortesía pic.twitter.com/335WR4mFzo
— Carla Angola TV (@carlaangola) January 4, 2026
واضح رہے کہ امریکہ طویل عرصے سے مادورو حکومت پر منشیات اسمگلنگ کے الزامات عائد کرتا آ رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ گزشتہ کئی مہینوں سے وینزویلا پر دباؤ بڑھا رہی تھی۔ تین جنوری کو کاراکس میں زوردار دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی فوج نے فویرتے تیونا اور لا کارلوٹا جیسے اہم فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ان واقعات کے بعد لاطینی امریکہ میں امریکی مداخلت پر ایک بار پھر بحث تیز ہو گئی ہے۔
وینزویلا میں امریکی حملے میں 40 افراد ہلاک
نیویارک ٹائمز نے وینزویلا کے ایک سینئر اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ہفتے کی صبح امریکی حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں فوجی اور عام شہری دونوں شامل ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

