وینزویلا میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں اور سیاسی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تناؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے نازک وقت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کو کھلی اور سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے امریکہ کی بات نہ مانی تو انہیں سابق صدر نکولس مادورو سے بھی زیادہ سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ایک امریکی میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے نہایت سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ وینزویلا کے مستقبل کے لیے جو درست سمجھتا ہے، اگر روڈریگز اس پر عمل نہیں کرتیں تو انہیں بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ قیمت مادورو کے انجام سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا میں اقتدار کے توازن کو لے کر شدید ابہام پایا جاتا ہے۔
ٹرمپ کے اس بیان میں واضح تضاد بھی نظر آیا۔ دراصل اس سے ایک دن قبل انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ڈیلسی روڈریگز سے بات چیت ہوئی ہے اور وہ امریکہ کی شرائط پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روڈریگز وینزویلا کے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے امریکہ کے مشوروں پر غور کرنے کو آمادہ ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہےکہ ڈیلسی روڈریگز نے ٹرمپ کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے مادورو کو زبردستی اقتدار سے ہٹانے پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر وینزویلا واپس بھیجا جائے۔ روڈریگز کے اس سخت موقف کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ٹرمپ نے ایک اور انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ اگر روڈریگز امریکہ کی بات مان لیں تو وینزویلا میں فوجی مداخلت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا میں اقتدار کے معاملات کو کنٹرول کرنے کے لیے دوہری حکمت عملی اپنا رہی ہے۔ ایک طرف مذاکرات اور تعاون کا پیغام دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب کھلی دھمکیوں کے ذریعے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ ڈیلسی روڈریگز کو دی گئی تازہ وارننگ اسی پالیسی کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



