Machado offers Peace Prize To Trump: مچادو کے نوبل امن انعام کو ٹرمپ کے نام کرنے کے فیصلے پر ہنگامہ،نوبل کمیٹی کا دو ٹوک بیان، کہا: انعام نہ منتقل ہو سکتا ہے نہ واپس لیا جا سکتا ہے
ڈونالڈ ٹرمپ ماضی میں بھی کئی بار خود کو نوبل امن انعام کا مضبوط دعوے دار قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے ابتدائی آٹھ مہینوں میں آٹھ جنگوں کو ختم کرنے کا کریڈٹ لیتے ہوئے کہا تھا کہ ہر اس جنگ پر نوبل انعام ملنا چاہیے جسے روکا گیا ہو۔
Khawaja Asif Controversial Statement: کس کو اغوا کرانا چاہتا ہے پاکستان؟ خُواجہ آصف کا ترکی کو ٹرمپ کے خلاف اشتعال انگیز مشورہ
پاکستانی وزیر دفاع خُواجہ آصف نے ایک ایسا بیان دیا ہے جس نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کو "انسانیت کا مجرم" قرار دیتے ہوئے امریکہ اور ترکی سے اپیل کی کہ نتن یاہو کو اغوا کر کے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔
Trump threatens Mexico: وینزویلا کے بعد ٹرمپ کے نشانے پر آیا میکسیکو، امریکی صدر نے دی حملے کی دھمکی
گزشتہ ہفتے میکسیکن وزیر خارجہ نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے اسے علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا تھا۔ مادورو کو اغوا کرنے کے بعد ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کے خلاف بھی نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔
Trump Claims Venezuelan Oil After Maduro Arrest: نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکہ کا وینزویلا کے تیل پر کنٹرول، ٹرمپ کا بڑا اعلان کہا-وینزویلا صرف امریکی مصنوعات خریدے گا
اس سے قبل ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل کے حوالے سے ایک اور بڑا بیان دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا کی عبوری اتھارٹی 30 سے 50 ملین بیرل اعلیٰ معیار کا تیل امریکہ کے حوالے کرے گی۔ یہ تیل عالمی منڈی کی قیمت پر فروخت کیا جائے گا
Venezuela to Send 50 Million Barrels of Oil to the US: ’’وینزویلا کا 50 ملین بیرل تیل پہنچے گا امریکہ، دونوں ممالک کو ہوگا فائدہ…‘‘ حالیہ فوجی کارروائی کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ کا اعلان
بھارت بھی ایک وقت میں وینزویلا کا بڑا تیل خریدار تھا، لیکن امریکہ کی پابندیوں کے سبب 2019 میں بھارتی ریفائنریوں کو وینزویلا سے تیل خریدنا بند کرنا پڑا۔ اس کے بعد بھارت مشرقِ وسطیٰ، روس اور امریکہ سے تیل پر زیادہ انحصار کرنے لگا۔
Why US Attack On Venezuela: صرف تیل ہی نہیں… کچھ اور پر بھی ہے ٹرمپ کی نظر، جانئے وینزویلا پر حملے کی اصل وجہ کیا ہے؟
وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد عالمی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے احکامات پر ہونے والے اس آپریشن کو محض تیل کے مفادات سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے وجوہات کہیں زیادہ گہری اور پیچیدہ ہیں۔
Heavy gunfire reported near presidential palace: وینزویلا میں صدارتی محل کے باہر شدید فائرنگ،کراکس میں کشیدہ صورتحال
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وینزویلا پہلے ہی شدید سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔ ہفتے کے روز امریکی فوج کی ایک کارروائی میں صدر نکولس مادورو کو حراست میں لے کر ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد ڈیلسی روڈریگیز نے عبوری صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔
Congress Statement on Venezuela: وینزویلا پر کانگریس پارٹی کا آیا بیان، امریکہ کی یکطرفہ کارروائی پر کیا شدید تشویش کا اظہار
کانگریس نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ وینزویلا کے عوام کی خواہشات کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ وینزویلا کے قدرتی وسائل کا استعمال وہیں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہی ہونا چاہیے، جیسا کہ قدرتی وسائل پر مستقل خودمختاری کے اصولوں میں ضمانت دی گئی ہے۔
Donald Trump Eyes On Greenland: وینزویلا کے بعد گرین لینڈ پر ڈونالڈ ٹرمپ کی نظر، نیٹو کو سخت مشکلات کا سامنا، ڈنمارک کی سخت وارننگ
وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات مزید جارحانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بار ان کی توجہ کسی مخالف ریاست پر نہیں بلکہ امریکہ کے ایک پرانے اتحادی اور نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کے زیرِ انتظام خود مختار خطے گرین لینڈ پر مرکوز ہے۔ ٹرمپ نے کھلے عام کہا ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنا ضروری ہے، جس کے بعد یورپ اور امریکہ دونوں میں سفارتی ہلچل مچ گئی ہے۔
US Attack On Venezuela: وینزویلا پر امریکی کارروائی، دنیا دو خیموں میں تقسیم، جانئے کون دے رہا امریکہ کا ساتھ؟
وینزویلا کے خلاف امریکہ کی حالیہ کارروائی کے بعد عالمی سیاست میں واضح دراڑ نظر آ رہی ہے اور دنیا دو بڑے خیموں میں بٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف وہ ممالک ہیں جو امریکی اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایسے ممالک بھی ہیں جو کھل کر امریکہ کے موقف اور کارروائی کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی سفارتی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔





