Bharat Express DD Free Dish

Nicolas Maduro

وینزویلا کے خلاف امریکہ کی حالیہ کارروائی پر عالمی سطح پر ردعمل تیز ہو گیا ہے۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے امریکی اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اپنی طاقت کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک خود مختار ملک کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس سے عالمی نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان میں واضح تضاد بھی نظر آیا۔ دراصل اس سے ایک دن قبل انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ڈیلسی روڈریگز سے بات چیت ہوئی ہے اور وہ امریکہ کی شرائط پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

وینزویلا کے صدر کے ساتھ جو کارروائی کی گئی، اس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے خودمختار ملک کے خلاف زبردستی اور اس کے صدر کے خلاف کی گئی کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔

کملا ہیرس نے واضح طور پر کہا کہ ٹرمپ کی اس کارروائی سے امریکہ نہ تو زیادہ محفوظ ہوگا، نہ مضبوط اور نہ ہی سستا۔ انہوں نے لکھا کہ اگرچہ مادورو ایک آمر ہیں، لیکن اس طرح کا قدم سراسر بے وقوفانہ اور قانون کے خلاف ہے۔

امریکہ کی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا میں بڑی سیاسی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ وینزویلا کی سپریم کورٹ آف جسٹس نے ہفتہ کی دیر رات نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو ملک کی عبوری صدر مقرر کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد ملک میں استحکام آنے تک امریکہ عارضی طور پر وینزویلا کے انتظامی امور سنبھالے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد سیاسی بے چینی کو روکنا، معاشی نظام کو بحال کرنا اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کی ازسرنو تعمیر کو یقینی بنانا ہے، تاکہ ملک کو ایک محفوظ اور ذمہ دار قیادت کی طرف منتقل کیا جا سکے۔

آل انڈیا مجلسِ اتحادُالمسلمین کے قومی صدر اور حیدرآباد سے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے ممبئی کے گوونڈی میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے امریکہ لے جا سکتے ہیں تو وزیر اعظم مودی پاکستان جا کر 26/11 حملے کے ماسٹر مائنڈ کو بھارت کیوں نہیں لا سکتے؟

وینزویلا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے بعد نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کسی دباؤ یا طاقت کے آگے نہیں جھکے گا۔

ماچاڈو آزاد منڈی اور امریکی سرمایہ کاری کے ذریعے وینزویلا کی معیشت کو دوبارہ مضبوط کرنے کی حامی رہی ہیں اور ڈونالڈ ٹرمپ کی وینزویلا پالیسی کی کھلے عام تائید کرتی ہیں۔

وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گل پنٹو نے کہا کہ انہوں نے امریکی حملے کے جواب میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ہنگامی میٹنگ طلب کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے ٹیلگرام پر یو این کو بھیجے گئے خط کو شیئر کرتے ہوئے کہا، ’’ان لوگوں کی طاقت کے سامنے کوئی بھی بزدلانہ حملہ کامیاب نہیں ہوگا۔ وہ جیتیں گے۔”