Bharat Express DD Free Dish

US

چین کے کسٹمز ٹیرف کمیشن نے کہا ’’اگر امریکہ اور زیادہ ٹیرف لگاتا ہے، تو اس کا کوئی مطلب نہیں رہے گا اور وہ عالمی اقتصادی تاریخ میں ایک مذاق بن کر رہ جائے گا۔‘‘

خاص بات یہ ہے کہ یورپی یونین نے جن مصنوعات کو بھاری محصولات کے لیے منتخب کیا ہے، ان میں سے زیادہ تر ان ریاستوں سے آتی ہیں جہاں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی غالب ہے۔

امریکہ اور روس کے تعلقات گزشتہ کچھ عرصے سے نمایاں طور پر بہتر ہو رہے ہیں۔ حالانکہ، تاریخی طور پر دونوں ممالک کے تعلقات کافی کشیدہ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے روس کے خلاف انتہائی نرم رویہ اپنایا ہے۔ وہ یوکرین جنگ کے معاملے پر بھی ماسکو کی طرف جھکاؤ رکھتے نظر آئے، جس سے کیف اور اس کے یورپی اتحادی پریشان ہو گئے ہے۔

چین نے جمعہ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے عائد کیے گئے ٹیرف کا جواب دیتے ہوئے امریکی اشیا پر اضافی محصولات اور پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی عدالت نے کہا ہے کہ ملک بدر کیے گئے شخص کو تحریری نوٹس اور دعویٰ پیش کرنے کا موقع بھی دینا ہوگا۔ تارکین وطن کے ایک گروپ نے عرضی داخل کر امیگریشن اور کسٹمس انفورسمنٹ کی پالیسی کو چیلنج کیا گیا۔

امریکہ کے ذریعے آٹو درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کیے جانے کے بعد کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے جمعرات کو کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کریں گے۔

ہندوستان اور امریکہ اپنی سفارتی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے لیے تیار دکھائی دے رہے ہیں اور آنے والے دنوں کئی اعلیٰ امریکی عہدیدار ہندوستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔

امریکہ نے جمعہ کو کہا کہ وہ لاکھوں تارکین وطن کی قانونی حیثیت ختم کر رہا ہے اور انھیں ملک چھوڑنے کے لیے کچھ ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی تاریخ میں ملک بدری کی سب سے بڑی مہم شرع کی ہے، خاص طور پر لاطینی امریکی ممالک سے۔ اس …

امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو 100 ملین ڈالر کی تخمینہ لاگت کے جدید ترین اور سٹیک نشانے پر مارنے والے ہتھیاروں کے نظام کی پہلی فروخت کو منظوری دے دی ہے۔

ریاستہائے متحدہ کی حکومت کے تعاون سے چلنے والے میڈیا نیٹ ورک وائس آف امریکہ کے ڈائریکٹر مائیکل ابرامووٹز نے کہا کہ ہفتے کے دن ہمارے 1,300 سے زیادہ صحافیوں، پروڈیوسرز اور معاون عملے کو چھٹی پر بھیج دیا گیا۔ ابرامووٹز نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ’’یہ میرے لیے تکلیف دہ ہے کہ 83 سالوں میں پہلی مرتبہ وائس آف امریکہ کو خاموش کیا جا رہا ہے۔‘‘