Bharat Express DD Free Dish

US Iran conflict

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دنیا بھر میں آٹھ سے دس جنگیں ختم کروائیں اور خود کو ’پیس میکر‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ کو بھی انہوں نے ٹال دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر امریکہ بروقت مداخلت نہ کرتا تو آج ایران ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہوتا، جس سے عالمی توازن مکمل طور پر بدل جاتا۔ ٹرمپ کے مطابق، …

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فضائی حملوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق، یہ جنگ بندی دو طرفہ ہے اور اس کا مقصد مستقل امن کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ 10 نکاتی تجویز کو ایک قابل عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے، جس پر مزید بات چیت کی جا سکتی ہے۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر پائلٹس کے لیے بعض قوانین میں عارضی نرمی دی ہے۔ بین الاقوامی پروازوں کو طویل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس کی وجہ سے پائلٹس کے فلائٹ ڈیوٹی ٹائم میں عارضی اضافہ کیا گیا ہے۔

چین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر کشیدگی کم نہ کی گئی تو یہ صورتحال ایک بڑے انسانی اور معاشی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ بیجنگ نے ایک بار پھر تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارتی بات چیت کے ذریعے امن کی راہ اختیار کریں۔

اس فوجی تصادم میں ایک جانب امریکہ اور اسرائیل ایران کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایرانی افواج اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کر رہی ہیں۔ موجودہ صورتحال کے باعث نہ صرف فضائی سفر متاثر ہوا ہے بلکہ عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور خطے میں مقیم لاکھوں غیر ملکیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں سے جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی حکومت کو کھلی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت ناقابلِ قبول ہوگی اور ایسی کسی بھی کوشش کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اس اقدام سے قبل اپنے اختیارات کا بغور جائزہ لے گا، کیونکہ اس سے نہ صرف اس کے دشمن بلکہ اس کے اتحادی ممالک بھی متاثر ہوں گے۔ ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی کونسل کا فیصلہ اگلے چند دنوں میں متوقع ہے۔

جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملے کے بعد ایران کا پہلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایران نے کہا کہ اس حملے میں ایران کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

ٹرمپ نے ایران کو بغیر کسی شرط کے فوری سرنڈر کرنے کا مطالبہ کیا اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ: "ہمیں معلوم ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کہاں چھپے ہیں، فی الحال ہم حملہ نہیں کریں گے، لیکن ہمارا صبر ختم ہوتا جا رہا ہے۔"