Bharat Express DD Free Dish

Urdu poetry

بشیر بدر کو ان کی ادبی خدمات پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (1999) اور پدم شری جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔ وقت کے ساتھ ان کی یادداشت متاثر ہوئی، مگر ان کی شاعری آج بھی قاری کے دل میں زندہ ہے۔

فنا نظامی کانپوری کی شاعری فقط الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ایک فکری تحریک ہے جو خودی، حیا، غیرت اور حق پرستی کی تعلیم دیتی ہے۔ وہ اردو شاعری میں ایک ایسی آواز ہیں جس نے رسمیات کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور انسان کو اس کی اصل پہچان یاد دلائی۔

فراز کی شاعری میں تین بڑے عناصر رومان، مزاحمت اور احتجاج نمایاں ہیں۔ وہ ایک ساتھ رومانوی، جدید، کلاسیکی اور انقلابی شاعر کے طور پر ابھرتے ہیں۔ انہوں نے عشق و محبت، جدائی اور قربت کے ایسے لطیف اور پیچیدہ احساسات کو شعری پیرایہ دیا جنہیں پہلے بہت کم شعرا نے اس شدت  سے بیان کیا تھا۔

داغ دہلوی اردو شاعری کا ایک ایسا درخشاں نام ہیں جنہوں نے سادہ اور سہل زبان میں گہری باتیں کہہ کر اردو ادب کے شعری آہنگ کو ایک نیا رنگ دیا۔ ان کی شاعری نہ صرف ان کے دور میں مقبول تھی بلکہ آج بھی اپنی تازگی اور تاثیر کے ساتھ زندہ ہے۔

ترقی پسند تحریک سے تعلق رکھنے والے مشہورشاعر ساحر لدھیانوی 8 مارچ 1921 کو پنجاب کے لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ ترقی پسند نظریات کے ترجمان شاعرساحر لدھیانوی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ انہوں نے مختلف میدانوں میں قسمت آزمائی کی۔ متعدد غزلوں، نظموں اورنغموں نے شہریت اورمقبولیت کی بلندیوں کو چھوا۔

ندا فاضلی کو پدم شری اور ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سمیت کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ انہوں نے تقریباً 24 کتابیں لکھیں اور ان کا کلام کئی تعلیمی نصاب کا بھی حصہ ہے۔ 8 فروری 2016 کو ممبئی میں دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوا۔ ندا فاضلی ایک ایسے شاعر تھے جنہوں نے اپنے فن کے ذریعے محبت، رواداری اور انسانیت کا پیغام دیا اور ادب و سماج پر گہرا اثر چھوڑا۔

جگر مراد آبادی کی شاعری آج بھی عشاق اردو کے دلوں میں زندہ ہے اور ان کے اشعار وقت کے ساتھ مزید گہرے معنی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

اقبال کی شاعری کا مرکزی خیال خودی ہے، یعنی انسان اپنی پہچان، خود اعتمادی اور کردار کی تعمیر کرے۔ ان کی شاعری میں تصوف، اسلامی فلسفہ، اور مسلمانوں کی بیداری کا گہرا پیغام ملتا ہے۔ ان کی اردو اور فارسی شاعری نے لاکھوں دلوں کو جھنجھوڑا۔ ان کی معروف تصانیف میں بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز شامل ہیں۔

پروین شاکر کی شاعری ہجر اور ملن کی کشاکش سے عبارت ہے جس میں ہجر اور وصل دونوں ادھورے ہیں۔ جذبے کی لے، پیشکش کا انداز اور لفظوں کی بُنت کے ساتھ پروین شاکر نے اردو کی نسائی شاعری میں اک ایسا مقام حاصل کیا جس کے ذکر کے بغیر اس تحریک کو نامکمل سمجھا جائے گا۔

منور رانا نے جب والی آسیؔ سے شرف تلمذ حاصل کیا تو ان کے مشورے سے 1977 میں ایک مرتبہ پھر اپنا تخلص بدلا اور ’’منورؔرانا‘‘ بن گئے۔ اس طرح سید منور علی کو منور علی آتش سے منور علی شاداںؔ اور پھر منور رانا بننے تک پورے نو سال کا عرصہ لگ گیا۔