Bharat Express DD Free Dish

Urdu literature

پروفیسر رحمان مصور نے اپنے لہجے کی انفرادیت اور مضامین کی ندرت سے ادبی دنیا میں نمایاں شناخت بنائی ہے۔ غزل کے مباحث میں ان کے تجربات اور احساسات کی ترجمانی کا خوبصورت رنگ ان کی بے پناہ تخلیقیت کا پتہ دیتے ہیں۔

راحت اندوری کا 70 برس کی عمر میں 11 اگست 2020 کو انتقال ہوگیا۔ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اگلے ہی روز ان کے انتقال کی خبر سامنے آئی، جس سے ادبی اور فلمی دنیا میں غم کی لہر دوڑ گئی۔

تقریب کی صدارت انجمن ترقی اردو ہند کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی نے کی. جبکہ آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈووکیٹ مہمان خصوصی تھے۔ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے سابق صدرسراج الدین قریشی، پروفیسرخالد محمود نے مہمان اعزازی کے طورپرشرکت کی۔ اس موقع پر احمد جاوید، معصوم مرادآبادی، حقانی القاسمی، ڈاکٹر عامر فہیم اور ابو ہریرہ نے اظہارِخیال کیا۔ نظامت کے فرائض معین شاداب نے انجام دیئے۔

معروف ادیبہ اور نقاد رخشندہ روحی مہدی نے مسرور جہاں کے افسانوی اسلوب اور ان کی تخلیقی انفرادیت پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق مسرور جہاں کے افسانوں میں عورت کے جذبات، اس کی محرومیاں اور اس کے خواب نہایت سچائی کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں۔ مسرور جہاں کی تحریروں میں زبان کی شستگی، پلاٹ کی مضبوطی اور کرداروں کی نفسیاتی گہرائی ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔

پروفیسر نعیم کا شمار اردو ادب کے ان اسکالروں میں ہوتا ہے، جنھوں نے اردو کو صرف ایک زبان کے طور پر نہیں بلکہ ایک ثقافتی ورثے کے طور پر دیکھا۔

سمرکیمپ اوراردوتھیٹرورکشاپ اردواکادمی دہلی کے ذمہ داران وکارکنان کی خصوصی دلچسپی کے باعث ممکن ہوسکی، جنھوں نے اس کیمپ کی کامیابی میں نمایاں کردارادا کیا۔ اس اقدام کا مقصد بچوں میں اردوزبان، تہذیب اورفنونِ لطیفہ سے محبت اور دلچسپی پیدا کرنا تھا اور یہ ایک سنجیدہ اورمؤثرکوشش ثابت ہوئی۔

ٹام 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں اسپورٹس جرنلسٹ بھی رہے تھے۔ وہ پہلے صحافی تھے جنہوں نے سچن تندولکر کا ٹی وی پر انٹرویو کیا تھا، جب وہ کرکٹ میں قدم رکھنے والے تھے۔ وہ راجیش کھنہ کو اپنا آئیڈیل مانتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ان کی فلم ’ارادھنا‘ دیکھ کر اداکار بننے کا فیصلہ کیا۔

پروفیسر انیس الرحمن نے کہا کہ جوش کئی معنوں میں اہم شاعر ہیں،زبان کی سطح پران کی اپنی اہمیت ہے، استعارے خلق کرنے میں ان کا کوئی جواب نہیں،وہ اپنے انداز کی علامتیں نکالتے ہیں،اور ان کی خلّاقیت ان کی اہمیت کا بڑا حصہ ہے۔

اے آئی آئی ایس فیض یافتہ اسکالر اور مورخ اینڈریو ہاورڈ اپنے اردو زبان سیکھنے کے سفر کا اشتراک کر  تے ہوئے  بتا رہے ہیں کہ اردو ان  کی تحقیق میں کس طرح مددگار ثابت ہورہی ہے۔

اردو ادب کے فروغ کے اپنے سفر میں سلیم پہلے ہی کئی کتابیں شائع کر چکے ہیں، جن میں خواتین افسانہ نگاروں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔