پروفیسر رحمان مصور ’راجندر یادو ہنس غزل‘ اعزاز سے سرفراز، تقریب میں ادبی دنیا کی ممتاز شخصیات کی شرکت
پروفیسر رحمان مصور نے اپنے لہجے کی انفرادیت اور مضامین کی ندرت سے ادبی دنیا میں نمایاں شناخت بنائی ہے۔ غزل کے مباحث میں ان کے تجربات اور احساسات کی ترجمانی کا خوبصورت رنگ ان کی بے پناہ تخلیقیت کا پتہ دیتے ہیں۔
Rahat Indori Death Anniversary: ’’میرے حجرے میں نہیں اور کہیں پر رکھ دو: آسماں لائے ہو، لے آؤ زمیں پر رکھ دو‘‘ یوم وفات پر یادوں میں منفرد لب ولہجے شاعر راحت اندوری
راحت اندوری کا 70 برس کی عمر میں 11 اگست 2020 کو انتقال ہوگیا۔ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اگلے ہی روز ان کے انتقال کی خبر سامنے آئی، جس سے ادبی اور فلمی دنیا میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
Book Launch Ceremony: پروفیسر اخترالواسع کی شخصیت علم اور سماجی شعور کا حسین امتزاج، اردو گھر میں ’’پروفیسر اخترالواسع کی علمی وادبی خدمات‘‘ اور’’حرفِ حق‘‘ کی تقریبِ اجرا میں اہلِ دانش کا اظہارِخیال
تقریب کی صدارت انجمن ترقی اردو ہند کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی نے کی. جبکہ آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈووکیٹ مہمان خصوصی تھے۔ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے سابق صدرسراج الدین قریشی، پروفیسرخالد محمود نے مہمان اعزازی کے طورپرشرکت کی۔ اس موقع پر احمد جاوید، معصوم مرادآبادی، حقانی القاسمی، ڈاکٹر عامر فہیم اور ابو ہریرہ نے اظہارِخیال کیا۔ نظامت کے فرائض معین شاداب نے انجام دیئے۔
Masroor Jahan’s stories: ’’مسرور جہاں کے افسانے محض بیانیہ نہیں بلکہ سماجی حقیقت کا ایک آئینہ ہیں‘‘ مسرور جہاں کے افسانوں کی قرأت پر مشتمل محفل کا انعقاد
معروف ادیبہ اور نقاد رخشندہ روحی مہدی نے مسرور جہاں کے افسانوی اسلوب اور ان کی تخلیقی انفرادیت پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق مسرور جہاں کے افسانوں میں عورت کے جذبات، اس کی محرومیاں اور اس کے خواب نہایت سچائی کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں۔ مسرور جہاں کی تحریروں میں زبان کی شستگی، پلاٹ کی مضبوطی اور کرداروں کی نفسیاتی گہرائی ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
Urdu World Mourns Professor CM Naim’s Death: اردو کے نامور محقق پروفیسر سی ایم نعیم کے انتقال پر اردو دنیا میں سوگ کی لہر، جانیے کون تھے سی ایم نعیم
پروفیسر نعیم کا شمار اردو ادب کے ان اسکالروں میں ہوتا ہے، جنھوں نے اردو کو صرف ایک زبان کے طور پر نہیں بلکہ ایک ثقافتی ورثے کے طور پر دیکھا۔
Delhi Urdu Academy Summer Camp and Workshop: دہلی اردواکادمی کے زیرِاہتمام سمرکیمپ اوراردوتھیٹر ورکشاپ، اکادمی کی خدمات سے مطمئن نظرآئیں رشمی سنگھ
سمرکیمپ اوراردوتھیٹرورکشاپ اردواکادمی دہلی کے ذمہ داران وکارکنان کی خصوصی دلچسپی کے باعث ممکن ہوسکی، جنھوں نے اس کیمپ کی کامیابی میں نمایاں کردارادا کیا۔ اس اقدام کا مقصد بچوں میں اردوزبان، تہذیب اورفنونِ لطیفہ سے محبت اور دلچسپی پیدا کرنا تھا اور یہ ایک سنجیدہ اورمؤثرکوشش ثابت ہوئی۔
Remembering Tom Alter: ٹام آلٹر: نام اور شکل سے غیر ملکی، لیکن سچا ہندوستانی، اردو اتنی شاندار کہ…
ٹام 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں اسپورٹس جرنلسٹ بھی رہے تھے۔ وہ پہلے صحافی تھے جنہوں نے سچن تندولکر کا ٹی وی پر انٹرویو کیا تھا، جب وہ کرکٹ میں قدم رکھنے والے تھے۔ وہ راجیش کھنہ کو اپنا آئیڈیل مانتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ان کی فلم ’ارادھنا‘ دیکھ کر اداکار بننے کا فیصلہ کیا۔
Josh Maleeh Aabadi: شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کے آخری شعری مجمو عے’محمل وجرس‘ اور نثری کتاب ’فکرو ذکر‘ کا رسمِ اجرا
پروفیسر انیس الرحمن نے کہا کہ جوش کئی معنوں میں اہم شاعر ہیں،زبان کی سطح پران کی اپنی اہمیت ہے، استعارے خلق کرنے میں ان کا کوئی جواب نہیں،وہ اپنے انداز کی علامتیں نکالتے ہیں،اور ان کی خلّاقیت ان کی اہمیت کا بڑا حصہ ہے۔
Reviewing Historical Sources for Learning Urdu: اردو سیکھ کرتاریخی مآخد کا جائزہ لینا
اے آئی آئی ایس فیض یافتہ اسکالر اور مورخ اینڈریو ہاورڈ اپنے اردو زبان سیکھنے کے سفر کا اشتراک کر تے ہوئے بتا رہے ہیں کہ اردو ان کی تحقیق میں کس طرح مددگار ثابت ہورہی ہے۔
Suhail Salim is preserving Urdu literature in Kashmir Valley: سہیل سلیم سے ملیں جو وادی کشمیر میں اردو ادب کے فروغ کے لیے نمایاں کام انجام دے رہے ہیں
اردو ادب کے فروغ کے اپنے سفر میں سلیم پہلے ہی کئی کتابیں شائع کر چکے ہیں، جن میں خواتین افسانہ نگاروں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔





