Bharat Express DD Free Dish

Urdu Adab

ڈیجیٹل میڈیا اور اردو زبان وادب: عصری تناظرات اورامکانات‘ کے افتتاحی اجلاس کی صدارت شکیل حسن شمسی نے کی جبکہ بطور مہمان خصوصی جاوید دانش (کناڈا) اور بطور مہمان اعزازی قربان علی نے شرکت کی۔ کلیدی خطبہ پروفیسر شافع قدوائی نے پیش کیا۔ استقبالیہ کلمات دہلی اردو اکادمی کے سکریٹری محمد احسن عابد اور تعارفی کلمات پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے پیش کئے۔ نظامت کی ذمہ داری ڈاکٹر شفیع ایوب نے نبھائی۔

ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ اس کانفرنس میں جہاں ہندوستان کے تمام اردو علاقوں اور متوازن صنفی نمائندگی پر توجہ دی گئی ہے، وہیں کناڈا ،آذربائیجان ،ازبیکستان، مصر، نیپال، قطر، یو اے ای سے بھی متعدد اردو دانشوران آن لائن و آف لائن شرکت کر رہے ہیں۔

منگل کی صبح ایوان کی کارروائی کے خلاف احتجاج کے بعد ایوان کا اجلاس ساڑھے 12 بجے شروع ہوا۔ اس دوران اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ماتا پرساد پانڈے نے تجویز پیش کی کہ انگریزی کے بجائے اردو کو فلور لینگوئج کے طور پر اپنایا جائے، کیونکہ انگریزی کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور اردو ہماری دوسری زبان ہے۔ اس پر سی ایم یوگی نے ہندی اور دیگر علاقائی زبانوں کا مدعا اٹھاتے ہوئے اپوزیشن کو نشانہ بنایا۔

شیخ الہند سیوا سنستھان کے زیراہتمام اردو گھر میں جشن ڈاکٹرافروز طالب میں ملک کے ممتاز اور نامور شعرائے کرام نے شرکت کی اور اپنے کلام سنائے۔

پروفیسر عبدالحق ( ریٹائرڈ شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی ) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دور حاضر میں دنیا کی کسی بھی زبان میں ا قبال جیسا بلند پایہ شاعر ، فلسفی، مفکر نظر نہیں آتا۔ انھوں نے کہا کہ اقبال کو یاد کرنا ہمارا دینی فریضہ ہے اقبال کی شاعرانہ عظمت پیُمبر اسلام سے وابستہ ہے۔

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام بہ اشتراک شاگردان پروفیسرابن کنول یک روزہ قومی سمینار’ابن کنول: حیات وادبی خدمات‘ کے موقع پر پروفیسرشہپر رسول، پروفیسرصغیرافراہیم، پروفیسرطارق چھتاری، پروفیسرغضنفر، ڈاکٹرمحمد اسلم پرویز، پروفیسر فاروق بخشی اور ابن کنول کے شاگردان اور فیملی کی موجودگی میں ’مزید شگفتگی‘ کا اجرا عمل میں آیا۔

پروفیسرابن کنول کے شاگردوں کی طرف سے دہلی کے ماتا سندری روڈ پرواقع غالب انسٹی ٹیوٹ میں ایک اہم سیمینارمنعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سیمینارمیں پروفیسرابن کنول کی زندگی اورادبی خدمات سے متعلق کئی اہم مقالے بھی پڑھے جائیں گے اور مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی جائے گی۔

ٹام 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں اسپورٹس جرنلسٹ بھی رہے تھے۔ وہ پہلے صحافی تھے جنہوں نے سچن تندولکر کا ٹی وی پر انٹرویو کیا تھا، جب وہ کرکٹ میں قدم رکھنے والے تھے۔ وہ راجیش کھنہ کو اپنا آئیڈیل مانتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ان کی فلم ’ارادھنا‘ دیکھ کر اداکار بننے کا فیصلہ کیا۔

گزشتہ 30 اگست کو مکتبہ جامعہ کو بندکردیا گیا تھا اور اس کے سامنے کباب کاؤنٹر لگایا جانے لگایا تھا، لیکن اردوں داں طبقے نے اس کے لئے جدوجہد کی اور انہیں آج کامیابی مل گئی۔

اردو کے مایہ ناز ادیب، محقق، افسانہ نگار، خاکہ نگار، انشیائیہ پرداز، شاعر، مضمون نگار اور دو درجن کتابوں کے مصنف پروفیسرابن کنول کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کیمپس واقع قبرستان جمال پورمیں نم آنکھوں سے سپرد خاک کردیا گیا۔