Bharat Express DD Free Dish

UP Politics

سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر سخت حملہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بی جے پی کے اپنے حامی بھی اب پارٹی کی کارکردگی سے مایوس اور شرمندہ محسوس کر رہے ہیں۔

یوپی کی سیاست میں ایک طرف جہاں این ڈی اے میں شامل پارٹیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک ساتھ ہیں۔ وہیں آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) لیڈرکے ایک بیان نے اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

ڈومریاگنج کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے اسدالدین اویسی کی للکار پر سخت پلٹ وارکیا ہے۔ انہوں نے اسدالدین اویسی سے متعلق کہا کہ انہوں نے مہاراجہ سہیل دیو سے منسلک سرزمین پر ایک حملہ آور کی تعریف کرکے اپنی انتخابی مہم شروع کی ہے۔ یہ خوشنودی کی سیاست ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم اورنفرت پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

سالار غازی درگاہ کے تنازع کے معاملے پر اسدالدین اویسی نے کہا کہ سب ختم ہو گئے لیکن سالار غازی کی درگاہ آج بھی قائم ہے۔ اسدالدین اویسی اتر پردیش کے بہرائچ پہنچے ہوئے تھے۔ جہاں انہوں نے اسمبلی انتخابات کے حوالے سے عوام میں بگل پھونک دیا۔

یوپی میں سال 2027 میں الیکشن مجوزہ ہے۔ اس سے پہلے ایک ایسی تصویر سامنے آئی ہے، جس نے پروانچل کے مئوضلع میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس کا اثر سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی پربھی پڑ سکتا ہے۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بی جے پی نے اس کابینہ توسیع کے ذریعے آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل سماجی توازن، علاقائی نمائندگی اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ 

یہ معاملہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران پیش آیا تھا، جب راج بھر کی پارٹی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کی جانب سے رتن پورہ بازار میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ اس جلسے میں راج بھر نے اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بی جے پی کے لوگ ووٹ مانگنے آئیں تو انہیں جوتوں سے مارا جائے۔

سماجوادی پارٹی نے اے آئی ایم آئی ایم کے ان الزامات پرجواب دیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو مسلمانوں کواپنا غلام سمجھتے ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم لیڈران کے اس بیان پرمئو ضلع کی گھوسی لوک سبھا انتخابی حلقہ سے رکن پارلیمنٹ اورسماجوادی پارٹی کے لیڈرراجیورائے نے ردعمل دیا ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم کے لیڈر شوکت  علی نے میرٹھ میں عید ملن پروگرام کے دوران متنازع بیان دے کر سیاسی ہلچل تیز کر دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر 11 ایم ایل اے مل جائیں تو مسلمانوں کے خلاف انکاؤنٹر کرنے والوں کا بھی انکاؤنٹر ہوگا۔

گورکھپورمیں ایک ریلی میں وزیرسنجے نشاد کے روتے ہوئے ایک ویڈیو نے اتر پردیش کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں واپسی کے بارے میں قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ وہ بی جے پی کے ساتھ رہیں گے۔ نشاد پارٹی کے سربراہ نے ایس سی تحفظات کے اپنے مطالبے کو دہرایا اورایس پی اوربی ایس پی پرالزام لگایا کہ وہ نشاد برادری کو ان کے حقوق سے محروم کررہے ہیں۔