Bharat Express DD Free Dish

UP Politics

سابق رکن پارلیمنٹ رضوان ظہیر طویل عرصے سے بلرام پورکی سیاست میں ایک بااثرنام رہے ہیں۔ خاص طور پر تلسی پورعلاقے میں ان کی سیاسی گرفت اورسرگرمیاں ہمیشہ زیربحث رہی ہیں۔ گزشتہ تقریباً 4 برس سے قتل کے اس معاملے کی وجہ سے ان کی سیاسی سرگرمیاں متاثر رہی ہیں۔ اب عدالت سے بری ہونے کے بعد ان کے لیے دوبارہ فعال سیاست میں واپسی کی راہ آسان ہو سکتی ہے۔

عتیق احمد کے چھوٹے بیٹے آبان احمد کی ایک سڑک حادثے میں موت ہو گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ جیل میں بند اپنے بڑے بھائی سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے۔ جانیے اس پورے واقعے کی تفصیلات۔

 سماجوادی پارٹی کے قومی صدراکھلیش یادو نے یوپی میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی کے ساتھ اتحاد پرردعمل ظاہرکیا ہے۔ انہوں نے اویسی کی پارٹی کے ساتھ جانے سے متعلق یہ بڑی بات کہی ہے۔

سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر سخت حملہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بی جے پی کے اپنے حامی بھی اب پارٹی کی کارکردگی سے مایوس اور شرمندہ محسوس کر رہے ہیں۔

یوپی کی سیاست میں ایک طرف جہاں این ڈی اے میں شامل پارٹیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک ساتھ ہیں۔ وہیں آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) لیڈرکے ایک بیان نے اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

ڈومریاگنج کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے اسدالدین اویسی کی للکار پر سخت پلٹ وارکیا ہے۔ انہوں نے اسدالدین اویسی سے متعلق کہا کہ انہوں نے مہاراجہ سہیل دیو سے منسلک سرزمین پر ایک حملہ آور کی تعریف کرکے اپنی انتخابی مہم شروع کی ہے۔ یہ خوشنودی کی سیاست ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم اورنفرت پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

سالار غازی درگاہ کے تنازع کے معاملے پر اسدالدین اویسی نے کہا کہ سب ختم ہو گئے لیکن سالار غازی کی درگاہ آج بھی قائم ہے۔ اسدالدین اویسی اتر پردیش کے بہرائچ پہنچے ہوئے تھے۔ جہاں انہوں نے اسمبلی انتخابات کے حوالے سے عوام میں بگل پھونک دیا۔

یوپی میں سال 2027 میں الیکشن مجوزہ ہے۔ اس سے پہلے ایک ایسی تصویر سامنے آئی ہے، جس نے پروانچل کے مئوضلع میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس کا اثر سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی پربھی پڑ سکتا ہے۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بی جے پی نے اس کابینہ توسیع کے ذریعے آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل سماجی توازن، علاقائی نمائندگی اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ 

یہ معاملہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران پیش آیا تھا، جب راج بھر کی پارٹی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کی جانب سے رتن پورہ بازار میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ اس جلسے میں راج بھر نے اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بی جے پی کے لوگ ووٹ مانگنے آئیں تو انہیں جوتوں سے مارا جائے۔