Bharat Express DD Free Dish

Union Budget

جماعت اسلامی ہند کےامیر سید سعادت اللہ حسینی نے مرکزی بجٹ 2026–27 پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ حکومت نے میکرو اقتصادی استحکام، سرمایہ جاتی اخراجات اور مالیاتی نظم و ضبط پر زور دیا ہے، تاہم یہ بجٹ نئے روزگار پیدا کرنے ، سماجی ضروریات پورا کرنے ، بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور عوامی قرض کے بڑھتے بوجھ جیسے اہم معاشی مسائل کو حل کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔

ممتا بنرجی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مرکزی بجٹ میں مغربی بنگال کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے لیے ایک روپیہ تک مختص نہیں کیا گیا،

وزیر خزانہ نے انکم ٹیکس ریٹرن میں ترمیم کی آخری تاریخ کو 31 دسمبر سے بڑھا کر 31 مارچ کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جس کے لیے صرف معمولی فیس ادا کرنی ہوگی۔

موجودہ قوانین کے تحت موٹر ایکسیڈنٹ کلیم ٹریبونل (ایم اے سی ٹی) کی جانب سے دیے گئے سود کو ٹیکس کے دائرے میں آنے والی آمدنی تصور کیا جاتا تھا۔ اکثر معاوضہ ملنے میں تاخیر ہو جاتی تھی، جس کے نتیجے میں سود کی رقم کافی بڑھ جاتی تھی اور متاثرین یا ان کے اہلِ خانہ کو اس پر ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا۔

حکومت نے شہروں کو ان کی معاشی صلاحیت کی بنیاد پر ’سٹی اکنامک ریجن‘ کے طور پر شناخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ شناخت سیاحت، مینوفیکچرنگ، خدمات اور لاجسٹکس جیسے شعبوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی۔

بجٹ میں لیتھیئم، کوبالٹ اور نکل جیسے اہم معدنیات کے درآمدی محصول میں کمی کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جس سے بیٹری بنانے کی لاگت میں کمی آئے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے بیٹری کی پیداوار کی لاگت میں تقریباً 15 سے 20 فیصد کمی ہوگی

10 ہزار کروڑ روپے کنٹینر مینوفیکچرنگ کے لیے مختص کیے جائیں گے، 22 نئے واٹر ویز اور 3 مخصوص کوریڈور بنائے جائیں گے۔ پانچ علاقائی میڈیکل ہب قائم کیے جائیں گے اور بزرگ شہریوں کے لیے مضبوط صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی

بجٹ 2026 سے عام لوگوں کو کافی امیدیں وابستہ ہیں۔ عوام ٹیکس قوانین کو آسان بنانے، جی ایس ٹی نظام کو مزید مؤثر کرنے اور مصنوعی ذہانت سے جڑی ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے حکومتی پالیسی اقدامات کی توقع کر رہے ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت کے سامنے ایک طرف عوام کو راحت دینے کا دباؤ ہے تو دوسری طرف معیشت کو مستحکم رکھنے کی ذمہ داری بھی ہے۔ ایسے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا بجٹ میں توازن قائم رکھا جاتا ہے یا پھر ترقیاتی اہداف کے لیے سخت معاشی فیصلے کیے جاتے ہیں۔ آج کا بجٹ نہ صرف آئندہ سال کی اقتصادی سمت طے کرے گا بلکہ عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر بھی گہرا اثر ڈالے گا۔

حکومت نے پان مسالہ، گٹکھا اور کھینی جیسے تمباکو مصنوعات پر اب براہ راست چالیس فیصد جی ایس ٹی نافذ کر دیا ہے۔ اس سے پہلے ان مصنوعات پر اٹھائیس فیصد جی ایس ٹی کے ساتھ الگ سے سیس لیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ سگریٹ پر لمبائی کی بنیاد پر نئی ایکسائز ڈیوٹی بھی طے کی گئی ہے،