Bharat Express DD Free Dish

Student Suicide

جالندھر میں واقع لوولی پروفیشنل یونیورسٹی (ایل پی یو) کے 21 سالہ طالب علم کی مشتبہ حالات میں موت ہوگئی۔ طالب علم کی لاش اس کے پی جی کے کمرے میں چادر کے سہارے پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی۔ وہ کچھ دن پہلے ہی یونیورسٹی کا ہاسٹل چھوڑ کر پی جی میں رہنے آیا تھا۔ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران اور آئی آئی ٹی کے دیگر متعلقہ عہدیداروں کے خلاف بھی شکایت کی ہے۔ ایسے میں تحقیقات کے دوران یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ساحل کی شکایات کے بارے میں ادارے کے افسران کو کوئی معلومات تھی یا نہیں اور اگر تھی تو اس پر کیا کارروائی کی گئی۔فی الحال معاملے کی تحقیقات کرائم برانچ کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

این آئی ٹی کروکشیتر میں بی ٹیک سیکنڈ ایئر کی ایک طالبہ نے خودکشی کر لی۔ گزشتہ 60 دنوں میں یہ چوتھی خودکشی کا واقعہ ہے۔ واقعے کے بعد سینکڑوں طلبہ احتجاج پر اتر آئے اور انتظامیہ پر لاپروائی کے الزامات عائد کیے۔

راجستھان کے تعلیمی شہر کوٹہ میں طلبہ کی خودکشی کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ تازہ واقعے میں جے ای ای کی تیاری کر رہے بارہویں جماعت کے ایک طالب علم نے ٹرین کے آگے کود کر اپنی جان دے دی۔

گریٹر نوئیڈا کی گلگوٹیا یونیورسٹی میں بی ٹیک طالب علم اُدت سونی نے ہاسٹل سے کود کر خودکشی کر لی۔ واقعے سے پہلے ہاسٹل کے منتظم کی ڈانٹ کا ویڈیو والد کو بھیجا گیا تھا۔ پولیس تحقیقات جاری ہے۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کانپور ایک بار پھر طالب علم کی خودکشی کے واقعے سے دہل گیا ہے۔ ارتھ سائنس کے پی ایچ ڈی کے طالب علم رام سوروپ ایشورم نے کیمپس میں واقع ایک عمارت کی چھٹی منزل سے کود کر اپنی جان دے دی۔

شوریا کی موت کے بعد 20 اور 21 نومبر کو خاندان کے افراد، طلباء اور والدین نے اسکول کے گیٹ پر احتجاج کیا۔ بینرز پر لکھا ، اساتذہ نے میرے بیٹے کو مار ڈالا،

مہاراشٹر میں 19 سالہ ایک طالب علم نے کالج سے لوٹنے کے بعد اپنے گھر میں خودکشی کر لی۔ اس کے والد کا کہنا ہے کہ ٹرین میں چند لوگوں نے اسے مراٹھی نہ بولنے پر ہراساں کیا تھا۔ اچانک ہونے والے اس حملے سے اسے شدید صدمہ پہنچا تھا۔ آج وہ اس دنیا میں نہیں ہے۔

طالبہ کی ماں پونم دیوی کی طرف سے درج کرائی گئی شکایت کے مطابق کملا شرن یادو انٹر کالج کی طالبہ ریا پرجاپتی (17) کو 800 روپے کی بقایا فیس کی وجہ سے سالانہ امتحان کا داخلہ کارڈ دینے سے منع کر دیا گیا تھا۔

وجے اور ان کے اہل خانہ نے ابھی تک اس دلخراش واقعہ کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔