Bharat Express DD Free Dish

State Governments

وزیر اعظم نریندر مودی نے کابینہ کے وزرا کو ریاستی حکومتوں کے ساتھ بہتر تال میل قائم کرنے اور باقاعدہ وقفے پر شعبہ وار میٹنگیں منعقد کرنے کی ہدایت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ پولیس کی مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات کے لیے پولیس افسران پر مشتمل خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) یا کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 18 اگست مقرر کر دی ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرپروفیسرسلیم انجینئرنے ملک میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزراء، اعلیٰ سرکاری افسران اوردیگر بااثرشخصیات پربدعنوانی کے حالیہ الزامات اخلاقی اقدار اور جوابدہی کے گہرے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بدعنوانی اب صرف سیاست، بیورو کریسی یا کاروباری دنیا تک محدود نہیں رہی بلکہ ان اداروں تک بھی پہنچ چکی ہے، جن پرلاکھوں افراد اپنی عقیدت کا اظہارکرتے ہیں۔

پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کے ساتھ ایک طے شدہ طریقے سے نمٹے اور ہندوستانی مسلمانوں کو بلاوجہ نشانہ نہ بنائے۔

سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا کہ پولیس ریاستی نظام کا ایک اہم حصہ ہے، اس کا سماج اور لوگوں کے تحفظ پر سیدھا اثر پڑتا ہے۔ عدالت نے دو ٹوک لہجے میں کہا کہ پولیس افسروں کو اپنی حد نہیں پار کرنی چاہیے۔

اتر پردیش کو سب سے زیادہ 31,039.84 کروڑ روپے ملے، اس کے بعد بہار کو 17,403.36 کروڑ روپے اور مغربی بنگال کو 13017.06 کروڑ روپے ملے۔

نئی دہلی: ’’ شعبہ خواتین، جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ستمبر 2024 میں ایک ماہ کی طویل ملک گیر مہم شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس مہم کا تھیم ہے’’اخلاقی محاسن آزادی کے ضامن‘‘۔ اس مہم کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اورانہیں بتانا کہ حقیقی آزادی کیا ہے اور اسے اخلاقیات سے …

9 ججوں کی بنچ نے فیصلہ دیا کہ ریاستوں کو معدنیات سے مالا مال زمینوں پر ٹیکس لگانے کی اہلیت اور اختیار حاصل ہے۔ اوڈیشہ، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان کو اس کا فائدہ ہوگا۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے کہا گیا تھا کہ وہ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اپنی جگہوں پر کمیونٹی کچن چلانے کی ہدایت کرے۔ عرضی گزار نے مطالبہ کیا تھا کہ عدالت مرکزی حکومت کو اس سلسلے میں قومی پالیسی بنانے کی ہدایت کرے۔

عدالت نے مرکزی حکومت کو اعدادوشمار دستیاب نہیں کروانے والے ریاستوں پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر ریاستوں نے ایسا نہیں کیا تو انہیں 10 ہزار کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔