Bharat Express DD Free Dish

SIT

عام آدمی پارٹی کے سربراہ کیجریوال نے جمعہ کو ایودھیا دورے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ایس آئی ٹی کے پاس مؤثر تحقیقات کرنے کے اختیارات ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ رام مندر میں چندے اور قیمتی نذرانوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے۔

متاثرہ خاندان کا الزام ہے کہ بچوں کی گمشدگی کی اطلاع دینے کے باوجود پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر کارروائی کی جاتی تو شاید دونوں بچوں کی جان بچائی جا سکتی تھی۔

مدھیہ پردیش کے وزیر وجے شاہ کے ذریعہ کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف دیئے گئے قابل اعتراض بیان کی جانچ کررہی ایس آئی ٹی نے اپنی پہلی رپورٹ سپریم کورٹ میں سیل بند لفافے میں داخل کردی ہے۔ رپورٹ میں مختلف حقائق اورویڈیو فوٹیج کی تصدیق شامل ہے۔  سپریم کورٹ 28 مئی کو رپورٹ پرغورکرے گا۔

اترپردیش کے سنبھل میں نومبر 2024 کے تشدد کے سلسلے میں سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمن برق سے پوچھ گچھ ہوئی۔ جمعہ مسجد کمیٹی کے ظفر علی سے پہلے ہی تفتیش ہو چکی ہے

ظفر علی کے بڑے بھائی محمد طاہر نے الزام لگایا تھا کہ یہ ’غیر آئینی اقدام‘ صدر کو عدالتی کمیشن میں بیان دینے سے روکنے کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس ظفر علی کو جیل بھیجنا چاہتی ہے۔ پولیس چاہتی ہے کہ وہ کوئی بیان نہ دیں۔ لیکن وہ وہی بیان دیں گے جو انہوں نے کمیشن کے سامنے دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں ایک اور عرضی دائر کی گئی ہے جس میں تروپتی کے سری وینکٹیشور سوامی مندر کے پرساد میں جانوروں کی چربی کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

عرضی میں کہا گیا کہ 'ڈیٹا سے پتہ چلا ہے کہ نجی کمپنی نے مرکزی تفتیشی ایجنسی کی کارروائی سے بچنے کے لیے رقم دی ہے'۔ بہت سے معاملات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ مرکز اور ریاستوں میں برسراقتدار پارٹیوں نے پرائیویٹ کارپوریٹس کو فائدہ پہنچانے کے لیے پالیسیوں اور قوانین میں تبدیلیاں کی ہیں۔

اے ڈی جی آگرہ اورعلی گڑھ کمشنرکی قیادت میں ایس آئی ٹی کی یہ رپورٹ تیارکی گئی ہے۔ 15 صفحات کی اس تفصیلی رپورٹ میں ڈی ایم اورایس پی سمیت تقریباً 100 لوگوں کے بیان درج کئے گئے ہیں۔

حال ہی میں کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے پرجول ریوانا کے سفارتی پاسپورٹ کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

این جی او کامن کاز کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مختلف خسارے میں جانے والی کمپنیاں اور شیل کمپنیاں انتخابی بانڈز کے ذریعے سیاسی جماعتوں کو بھاری رقوم عطیہ کر رہی ہیں اور انتخابی بانڈز متعارف ہونے سے فرضی  بانڈز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔