Bharat Express DD Free Dish

Shiv Sena

قابل ذکر بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے 17 اکتوبر کو  نارویکر کو شیو سینا کے حریف گروپ کی طرف سے پارٹی میں تقسیم کے بعد ایک دوسرے کے ایم ایل ایز کو نااہل قرار دینے کے لیے دائر کی گئی کراس پٹیشنز پر فیصلہ کرنے کے لیے ایک حقیقت پسندانہ ٹائم فریم دینے کا آخری موقع دیا۔

SC on Maharashtra MLAs Disqualification: مہاراشٹر کے اراکین اسمبلی کے خلاف نااہلی کی کارروائی پرسماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ اسپیکر کو کوئی دکھاوا نہیں کرنا چاہئے بلکہ کارروائی کرنی چاہئے۔ عدالت نے کہا کہ اگر مہاراشٹر اسمبلی اسپیکرکے ذریعہ معقول وقت متعین نہیں کیا جاتا ہے تو وہ اس کے لئے ایک لازمی حکم جاری کرے گا۔

پرینکا چترویدی نے سنیچر کو سنجے سنگھ آزاد کے والد اور ان کی اہلیہ انیتا سنگھ سے دہلی میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ میٹنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ سنجے سنگھ آزاد  کے خلاف ای ڈی کی کارروائی

راہل شیوالے نے الزام لگایا کہ قانونی طور پر پارٹی کا نام اور نشان ایکناتھ شندے کے پاس ہے اور تمام ممبران اسمبلی شیوسینا سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں ان ممبران پارلیمنٹ کے گروپ لیڈر کی حیثیت سے انہوں نے وہپ جاری کیا تھا

'مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر بحرانوں کی وجہ سے مذہب اور عقیدے کے جال میں پھنسے ہوئے ہم وطنوں کو پھنسانے کی سازش شروع ہو گئی ہے۔

راہل گاندھی نے ہفتہ کو کہا تھا کہ انہوں نے بھگوت گیتا اور کئی اپنیشد پڑھے ہیں اور بی جے پی جو کچھ کرتی ہے اس میں ہندو (مذہب) جیسا کچھ نہیں ہے، بالکل نہیں۔

ریلی میں اجیت پوار نے کہا کہ بی جے پی شیوسینا مخلوط حکومت میں شامل ہونے کی واحد وجہ ریاست کی ترقی ہے۔ انہوں نے ملک میں کئی منصوبوں کو نافذ کرنے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کی۔

نیلم گورے کو ادھو ٹھاکرے کے قابل اعتماد لوگوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ان کے پارٹی میں شامل ہونے کو وزیراعلیٰ شندے نے تاریخی حادثہ بتایا تھا۔

مہاراشٹر میں سیاسی ہلچل کے درمیان اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر کا ایک اہم بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے جمعہ (7 جولائی) کو کہا کہ انہیں الیکشن کمیشن آف انڈیا سے شیو سینا کے آئین کی ایک کاپی ملی ہے اور وزیر اعلی ایکناتھ شندے سمیت شیوسینا کے 16 ایم ایل ایز کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر جلد ہی سماعت شروع ہوگی

بدھ کے روزدیر رات تک وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے اپنے بنگلے پر اپنے سبھی اراکین اسمبلی، اراکین پارلیمنٹ اور اپنے لیڈران کی میٹنگ بلائی تھی، تاکہ سبھی کو اعتماد میں لیا جاسکے۔