Bharat Express DD Free Dish

Shiromani Akali Dal

شرومنی اکالی دل کے صدرسکھبیرسنگھ بادل کی 7 اگست کودہلی میں وزیراعظم نریندرمودی سے ملاقات کے بعد دونوں پارٹیون کے درمیان ایک بارپھر اتحاد ہونے کی قیاس آرائیوں نے زورپکڑلیا تھا۔ حالانکہ بی جے پی کے ریاستی صدر نے اب اس پر بریک لگا دیا ہے۔

سکھبیر سنگھ بادل کو دسمبر 2024 میں بھی حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں ’سیوا‘ انجام دیتے ہوئے انہیں گولی مارنے کی کوشش کی گئی تھی۔ حملہ آور نے مبینہ طور پر بادل پر فائرنگ کی کوشش کی، تاہم اسے قابو کر لیا گیا اور سکھبیر سنگھ بادل محفوظ رہے تھے۔

شرومنی اکالی دل کو بی جے پی کے قدیم ترین اتحادیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان تقریباً ڈھائی دہائیوں تک سیاسی اتحاد قائم رہا، لیکن 2020 میں تین زرعی قوانین کے معاملے پر دونوں کی راہیں الگ ہوگئیں۔ اس وقت مرکزی وزیر ہرسمرت کور بادل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد دونوں جماعتوں نے پنجاب کی سیاست میں الگ الگ انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ عام آدمی پارٹی نے اقتدار میں آنے سے قبل پنجاب کے عوام سے بڑے بڑے وعدے کیے تھے۔ ان وعدوں میں 25 لاکھ نوکریاں فراہم کرنا، ریاست کو منشیات سے پاک بنانا اور تمام فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت یعنی ایم ایس پی فراہم کرنا شامل تھا، مگر ان وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ پنجاب کا تقریباً ایک تہائی علاقہ زیرِ آب ہے، جہاں مکانات اور فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

سکبھیرسنگھ بادل نے 16 نومبر کو شرومنی اکالی دل کے صدر عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ تاہم تب پارٹی نے ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا۔

کھبیر بادل پر الزام ہے کہ وہ حکومت میں رہتے ہوئے رام رہیم کے ساتھ نرم رویہ رکھتے تھے۔ انہوں نے ملبوسات کے تنازع میں شکایت واپس لینے کا کام بھی کیا تھا۔ اس پر اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہوں  نے مبینہ طور پر رام رہیم کو معاف کر دیاتھا۔

سمرن جیت سنگھ مان نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت سکھوں کو ملک سے باہر مار رہی ہے۔ ہندوستان سے باہر ہندوستانی حکومت کے ہاتھوں مارے گئے لوگ غدار نہیں تھے۔ اگر وہ لوگ غدار تھے تو ان پر ملک میں مقدمہ چلنا چاہیے تھا اور انہیں سزا ملنی تھی۔

پنجاب میں بی جے پی اکیلے ہی لوک سبھا الیکشن لڑے گی۔ ریاستی صدر سنیل جھاکھڑ نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی 13 سیٹوں پر اکیلے ہی الیکشن لڑے گی۔

شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) کے علاوہ، جنوبی کی تیلگو دیشم پارٹی اور جناسینا پارٹی کے بھی این ڈی اے میں شامل ہونے کا امکان ہے۔ دونوں  پارٹیوں کے لیڈران نے بی جے پی کے مرکزی قائدین کے ساتھ کئی دور کی بات چیت بھی کی ہے۔