Bharat Express DD Free Dish

Russia-Ukraine conflict

جمعرات کے روز روس نے یوکرین پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ روس کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شیلنگ اور ڈرون حملوں میں 7 افراد ہلاک اور 120 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں جن میں 11 بچے بھی شامل ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ نے ان پابندیوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، "بھارت کسی بھی یکطرفہ پابندیوں کے اقدامات کو تسلیم نہیں کرتا۔ ہم ایک ذمہ دار کردار ہیں اور اپنی قانونی ذمہ داریوں کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔

امریکی صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ ان کی ترجیح روس اور یوکرین کی جنگ کو روکنا ہے۔ لیکن مارچ سے روس نے یوکرین پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ ٹرمپ نے ان حملوں کو پوتن کی دوغلی پالیسی سے جوڑ دیا، جہاں وہ دن میں امن کی بات کرتے ہیں لیکن رات کو حملے کرتے ہیں۔

یوکرین نے روس کے سائبیرین علاقے میں ایک ایئر بیس پر حملے میں جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بمبار طیاروں کو نشانہ بنایا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یوکرین کا یہ حملہ روسی سرحد کے اندر طویل ترین فاصلے تک کیا جانے والا حملہ ہے۔

استنبول میں روسی قونصل خانے کے باہر سفارت کار نے کہا کہ روس استنبول میں یوکرین کے ساتھ مذاکرات کو 2022 میں تعطل کا شکار امن عمل کے ’تسلسل‘ کے طور پر دیکھتا ہے۔ ہماری ٹیم کا بنیادی مقصد تنازعہ کی وجوہات کی نشاندہی کرنا اور دیرپا امن کو یقینی بنانا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان، ٹیمی بروس نے "فوکس نیوز" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ "ہمارا موقف یوکرین میں امن مذاکرات میں ثالثی کے کردار کے حوالے سے بدستور وہی ہے ... تاہم اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو ہم ثالثی کے کردار سے پیچھے ہٹ جائیں گے"۔

بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کے باوجود، اسی دن روس اور یوکرین نے قیدیوں کا تبادلہ کیا، دونوں فریقوں نے 246 گرفتار فوجیوں کی واپسی کی تصدیق کی۔ زیلنسکی نے کہا کہ اب تک رہا کیے گئے یوکرینی جنگی قیدیوں کی کل تعداد 4,552 تک پہنچ گئی ہے۔

گورنر ایوان فیڈروف نے بتایا کہ روسی افواج نے دوپہر کے وقت ایک رہائشی علاقے پر بمباری کی اور حملے میں دو رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ اس سے قبل بدھ کے روز یوکرین کی فوج نے کہا تھا کہ اس نے روس میں ایندھن ذخیرہ کرنے کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔

روس کی فوج نے کہا ہے کہ یوکرین نے امریکی دور مار میزائلوں سے سرحدی خطے بریانسک میں فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا ہے، امریکی حکام کی جانب ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت ملنے کے بعد یہ پہلا حملہ ہے۔روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’دشمن نے صبح 3 بجکر 25 منٹ پر بریانسک میں ایک تنصیب کو 6 بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے تقریباً 2 سال میں پہلی بار کسی بڑے مغربی رہنما کو کال کی گئی، جرمنی کے وائس چانسلر اولاف شولز نے کیف کی جانب سے اعتراض کے باوجود روسی صدرکو کال کی۔