Bharat Express DD Free Dish

Rohingya Muslims

یہ روہنگیا افراد دراصل میانمار میں جاری بدامنی اور فوجی کارروائیوں کے بعد اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے تھے۔ ان میں سے بڑی تعداد بنگلہ دیش منتقل ہوئی، جبکہ ہزاروں افراد روزگار کی تلاش میں سعودی عرب چلے گئے۔ تاہم قانونی دستاویزات نہ ہونے کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا تھا۔ اب سعودی عرب کی مداخلت کے بعد ان افراد کو باضابطہ دستاویزات فراہم کی گئی ہیں، جس سے ان کی زندگی میں استحکام آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

مدھیہ پردیش کے گوالیار ضلع میں انتظامیہ نے غیر قانونی بنگلہ دیشی اور روہنگیا شہریوں کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ شہر میں کرائے پر یا خفیہ طور پر رہنے والے تمام افراد کی مکمل معلومات 15 دنوں کے اندر متعلقہ تھانے میں جمع کرانا لازمی کر دیا گیا ہے۔ مقررہ مدت میں معلومات نہ دینے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں سے کہا ہے کہ جب ملک اتنے مشکل وقت سے گزر رہا ہے تب آپ اس طرح کے خیالی واقعات لے کر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سپریم کورٹ نے 43 روہنگیا پناہ گزینوں کی جبری ملک بدری پر عبوری روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے قبل ازیں اسی طرح کی ایک درخواست پر غور کرنے سے انکار کر دیا تھا جس میں دہلی حکومت کو روہنگیا پناہ گزینوں کے بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کی ہدایت دینے کی اپیل کی گئی تھی۔

ایل جی  کی طرف سے کمشنر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر نے ایک سنجیدہ مجرمانہ واقعہ  کا حوالہ دیا جس میں ایک بنگلہ دیشی شہری مبینہ طور پر ایک گھر میں گھسنے کے بعد مجرمانہ حملے میں ملوث تھا۔

AAP کنوینر اور سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ ہم بی جے پی کو کسی بھی حالت میں روہنگیا کو دہلی میں بسانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔ مرکزی حکومت کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ ان کے بارے میں کیا کرنا ہے۔ اگر ہو سکے تو انہیں واپس بھیج دینا چاہیے۔ اگر ہم انہیں واپس نہیں بھیج سکتے تو ہم انہیں بھوک یا سردی سے مرنے نہیں دے سکتے۔

پناہ گزینوں کے انچارج ایک سینیئر اہلکار محمد شمس دوزہ نے کہا کہ ’ہمارے پاس معلومات ہیں کہ زیادہ تر پچھلے دو مہینوں کے دوران تقریباً آٹھ ہزار روہنگیا بنگلہ دیش میں داخل ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ ’بنگلہ دیش پہلے ہی بہت زیادہ بوجھ سے دب گیا ہے۔

حکم کے مطابق، پینل کو ماہانہ رپورٹ تیار کرنی ہوگی اور اسے ہر ماہ کی 5 تاریخ تک مرکزی وزارت داخلہ کو پیش کرنا ہوگی۔ محکمہ داخلہ نے پینل کو مرکز کے زیر انتظام علاقے میں غیر قانونی طور پر رہنے والے غیر ملکیوں کا پتہ لگانے اور ملک بدر کرنے کی کوششوں کی نگرانی  کی بھی ہدایت کی ہے۔

حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ "غیر قانونی تارکین وطن ہونے کے ناطے روہنگیا آئین کے حصہ سوئم کے تحت تحفظ کا دعویٰ نہیں کر سکتے کیونکہ حصہ سوئم صرف ملک کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے غیر قانونی تارکین وطن کو نہیں۔یہ لوگ  زندگی اور آزادی اور ہندوستان میں رہنے یا آباد ہونے کے بنیادی حق کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔