Bharat Express DD Free Dish

Rajya Sabha

ایم ایل سی عہدے سے استعفے کی خبروں پر بہار حکومت کے وزیر اشوک چودھری نے کہا کہ نتیش کمار کا ایوان سے جانا پورے بہار کے لیے افسوسناک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وقت اور حالات کے مطابق یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے۔

مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باعث آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے متاثر ہوئے ہیں، جو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس راستے میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہو گئی ہے، جس کا اثر بھارت سمیت کئی ممالک پر پڑ رہا ہے۔

بھارت میں لوک سبھا کی نشستیں 543 سے بڑھ کر 800 سے زائد ہو جائیں گی، جن میں سے 273 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہوں گی۔ خواتین کے لیے یہ ریزرویشن امکان ہے کہ 2029 سے نافذ کیا جائے گا۔ حکومت یہ بل 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر پیش کرے گی۔

راجیہ سبھا کے رکن اور اتر پردیش کے سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما نے ٹینکر مافیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ کئی علاقوں میں یہ گروہ پانی کی قلت کا فائدہ اٹھا کر عوام کا معاشی استحصال کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پانی کی تقسیم کے نظام کو مضبوط بنایا جائے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

حکومت کا ماننا ہے کہ بدلتے ہوئے سیکیورٹی تقاضوں کے پیش نظر ایک مشترکہ قانون وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اس بل کے ذریعے نہ صرف انتظامی ہم آہنگی پیدا کی جائے گی بلکہ فورسز کی کارکردگی کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

چیئرمین نے سبکدوش ہونے والے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائرمنٹ کو اختتام نہیں بلکہ نئی ذمہ داریوں کے آغاز کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نئے اراکین تازہ توانائی اور نئے خیالات کے ساتھ اس ادارے کی روایت کو آگے بڑھائیں گے،

انہوں نے پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ان کا مہذب اور متوازن اندازِ گفتگو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ہری ونش نارائن سنگھ نے اپنے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو ایک ایسے نائب چیئرمین کے طور پر دیکھتے ہیں،

وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے جو ہر دو سال بعد ایوان کو جذباتی لمحات میں لے آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں روزمرہ کے امور پر بحث ہوتی رہتی ہے، لیکن جب اراکین کی رخصتی کا وقت آتا ہے تو تمام سیاسی اختلافات پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور ایک مشترکہ جذبہ ابھر کر سامنے آتا ہے، جو احترام اور قدردانی پر مبنی ہوتا ہے۔

پپو یادو نے کہا کہ تیجسوی یادو کو سیاسی حالات کا علم تھا، مگر نہ تو انہوں نے کوئی میٹنگ بلائی اور نہ ہی کانگریس کے صوبائی صدر اور اہم لیڈران سے مشاورت کی۔ انہوں نے اسے فرض کی غفلت قرار دیا اور زور دیا کہ انتخابات سے پہلے ایک اجتماعی حکمت عملی بنائی جانی چاہیے تھی۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر دنیش شرما نے اپوزیشن پر سخت تنقید کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ اپوزیشن عوام سے جڑے مسائل پر بحث کرنے کے بجائے صرف ہنگامہ کر کے پارلیمنٹ کا وقت ضائع کر رہی ہے۔