Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

ایوان میں حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان گرما گرم بحث کے درمیان راہل گاندھی نے کہا، ’’خود کو ہندو کہنے والے 24 گھنٹے تشدد کی بات کرتے ہیں۔‘‘ آپ (بی جے پی) ہندو نہیں ہیں۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو اپنی بات پر معافی مانگنی چاہئے۔ کروڑوں لوگ فخر سے اس مذہب کو ہندو کہتے ہیں۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے اعتراض ظاہر کیا اور ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

شکریہ کی تحریک پر بولتے ہوئے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ آئین پر منظم حملے ہو رہے ہیں۔ آئینی ادارے مسلسل حملے کی زد میں ہیں ۔وہیں دوسر ی جانب راہل نے  حکمراں جماعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جو لوگ خود کو ہندو کہتے ہیں وہ صرف  تشدد اور  تشددکرتے ہیں۔

لوک سبھا اسپیکر نے بھی راہل گاندھی کے تبصرہ کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا، "وزیر اعظم نریندر مودی ایوان کے لیڈر ہیں، میری تہذیب  ہے کہ ہمیں ان لوگوں کے سامنے جھکنا چاہیے جو ہم سے بڑے ہیں اور اپنے ساتھ برابری کا سلوک کریں۔

لوک سبھا میں اپنے خطاب میں راہل گاندھی نے کہا کہ سچائی، عدم تشدد اورجرات ہمارے ہتھیارہیں۔ شیوکا ترشول عدم تشدد کی علامت ہے۔ اپنے خطاب کے دوران راہل نے قرآن شریف اورگرو نانک کی تصویربھی دکھائی۔

لوک سبھا میں، بی جے پی کے رکن اور سابق مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث شروع کریں گے۔ لوک سبھا نے شکریہ کی تحریک پر بحث کے لیے 16 گھنٹے کا وقت رکھا ہے، جو منگل (2 جون) کو وزیر اعظم نریندر مودی کے جواب کے ساتھ ختم ہوگا۔

لوک سبھا میں پیپرلیک کے موضوع پر جمعہ کے روز کافی ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں نیٹ امتحان اورموجودہ پیپرلیک معاملے پر حکومت کے ساتھ مثبت بحث کرنا چاہتا ہے۔ ہم وزیراعظم سے اس موضوع پر بحث کرنے اور طلبا کو وہ احترام دینے کی گزارش کرتے ہیں، وہ جس کے حقدار ہیں۔

پیپر لیک کے معاملے پر زبردست ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن پیپر لیک پر فوری بحث کا مطالبہ کر رہی تھی، جسے اسپیکر اوم برلا نے منظور نہیں کیا۔

ایوان میں مائیک بند کرنے کا معاملہ ایک بارپھرسے طول پکڑنے لگا ہے۔ جمعہ (28 جون) کوبحث کے دوران اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے مائیک بند کئے جانے کا ذکرکیا۔

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے ایوان کی کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کارروائی کی شروعات میں ہی منصوبہ بند طرقے سے ایوان کو چلنے نہیں دینا درست نہیں ہے، یہ جمہوریت کے لیے مناسب نہیں ہے اور ایوان کو چلانے کی ذمہ داری سب کی ہے۔