Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوری کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے لوک سبھا کے رکن نے کہا، "یہ فیصلہ لینے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ میں خود اس غیر منصفانہ نظام کا شکار ہوں۔ پارلیمنٹ کے اندر مجھ پر ہونے والے حملے کو سب نے دیکھا۔

آسام میں کانگریس پارٹی کو مسلسل جھٹکا مل رہاہے۔ کانگریس کے کئی بڑے لیڈر پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں۔ گزشتہ سال نومبر میں آسام کانگریس کے دو سرکردہ رہنماؤں نے پارٹی چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

کانگریس کے سابق رہنما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا "55 سال پرانا رشتہ ختم ہو رہا ہے۔ میں تمام رہنماؤں، ساتھیوں اور کارکنوں کا گزشتہ برسوں میں ان کی بے لوث حمایت کے لیے شکر گزار ہوں۔"

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے منی پور میں بھارت جوڈو نیائے یاترا کو جھنڈی دکھائیں گے۔

سیٹ شیئرنگ، الائنس کنوینر بنانے سمیت مختلف امور پر بات چیت کے لیے ہفتہ کو انڈیا اتحاد کا اجلاس بلایا گیا۔ اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں نے بھی ان امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران نتیش نے کنوینر بننے سے انکار کر دیا۔

کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا کی طرح بھارت جوڑو نیائے یاترا بھی کامیاب سفر ہونے جا رہا ہے۔ یہ کوئی سیاسی یاترا نہیں ہے، یہ یاترا ہندوستان کے لوگوں کے لیے کیا جا رہا ہے۔ میں سب سے اپیل کرتا ہوں کہ اس یاترا میں حصہ لیں اور اسے کامیاب بنائیں۔

راہل گاندھی نے کہا کہ آج سپریم کورٹ کے فیصلے نے ایک بارپھر ملک کو بتا دیا کہ 'مجرموں کا سرپرست' کون ہے۔ بلقیس بانو کی بے پناہ جدوجہد مغروربی جے پی حکومت کے خلاف انصاف کی جیت کی علامت ہے۔

کانگریس نے منی پورسے لے کرممبئی تک بھارت جوڑو نیائے یاترا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس یاترا کے ذریعہ لوک سبھا الیکشن کی تیاری بھی کی جائے گی۔

Bharat Jodo Nyay Yatra: کانگریس نے بھارت جوڑو نیائے یاترا کی تفصیلات جاری کی ہیں جو راہل گاندھی کی قیادت میں ہفتہ (6 دسمبر) کو نکالی جا رہی ہے۔ اس لوگو کے دو حصے ہیں جن پر لکھا ہے ’’بھارت جوڑو نیائے یاترا، نیائے کا حق، ملنے تک۔‘‘ ایک حصے میں ’’بھارت جوڑو نیائے یاترا‘‘ …

راہل گاندھی نے سال 2019 میں یوپی کے امیٹھی اور کیرالہ کی وایناڈ سیٹ سے لوک سبھا الیکشن لڑا تھا۔ وہ امیٹھی سے الیکشن ہار گئے، لیکن وایناڈ سے 4 لاکھ سے زیادہ ووٹوں کے بڑے فرق سے جیت گئے تھے۔ تاہم امیٹھی سیٹ کو لے کر ابھی تک سسپنس برقرار ہے کیونکہ کانگریس نے اس پر اپنا موقف واضح نہیں کیا ہے۔