Bharat Express DD Free Dish

Quetta

جھال مگسی ضلع کے گنڈاوہ علاقے میں کوٹرا پولیس اسٹیشن کو مسلح افراد نے نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں کے فرار ہونے کے بعد انہیں پکڑنے کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا گیا، جس کے دوران ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین دیگر زخمی ہو گئے۔

متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یقینی بنائے کہ تمام واپسی رضاکارانہ اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق ہو۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر انخلا سے افغان سرحد پر عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔

دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ آس پاس کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور دروازے اکھڑ گئے۔ پولیس اور ریسکیو ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے، جب کہ ایف سی کے اضافی دستے بھی جائے وقوعہ پر تعینات کر دیے گئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور بغیر داڑھی والا تھا اور اس کی عمر 35 سے 40 سال کے درمیان تھی۔ اس کے پاس تقریباً 8 کلو وزنی بارودی مواد تھا، جس میں بال بیئرنگ بھی شامل تھے۔

کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ بازار میں موجود مقامی لوگوں نے تصدیق کی کہ دھماکہ پولیس کی گاڑی کے قریب ہوا۔ صوبہ بلوچستان سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والے دہشت گردانہ حملوں کی زد میں ہے۔ کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) ایسے حملوں کی قیادت کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نہتے لوگوں پر بزدلانہ حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

ملک کے معروف اخبار ’ڈان‘ سے بات کرتے ہوئے، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے سینئر عہدیدار قاضی خضر نے کہا کہ بی وائی سی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے مہرنگ اور دیگر کی حراست اور بلوچستان میں کارکنوں پر کارروائی کے خلاف ’پرامن‘ احتجاج کی کال دی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب بس ڈرائیور موڑ لیتے ہوئے گاڑی پر سے کنٹرول کھو بیٹھا۔ انہوں نے بتایا کہ بس وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ جارہی تھی۔