Bharat Express DD Free Dish

Priyanka Gandhi

کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ مہم پارٹی کا پروگرام نہیں بلکہ عوامی تحریک ہے۔ یہ ہر شہری کی آواز ہے جو شفاف اور منصفانہ انتخابات چاہتا ہے۔ راہل گاندھی اور کانگریس قیادت کا کہنا ہے کہ جب عوام کی آواز متحد ہو کر گونجے گی، تو جمہوریت کی جڑیں اور مضبوط ہوں گی۔

کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے کہا کہ راہل گاندھی نے ووٹ چوری کے خلاف یاترا نکالی، مگر یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے گھسپیٹیوں کے لیے یاترا نکالی۔ تو کیا یہاں کے ووٹر گھسپیٹیے ہیں؟ مہاگٹھ بندھن عوام کے حقوق کی لڑائی لڑ رہا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار پر طنز کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ انہوں نے 20 سال تک بہار پر حکومت کی ہے، اور اب کہتے ہیں کہ ڈیڑھ کروڑ نوکریاں دیں گے۔ گزشتہ 20 برسوں میں انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ کیا انہیں لگتا ہے کہ عوام بے وقوف ہیں؟

راہل گاندھی نے وائناڈ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب مجھ پر ظالمانہ حملہ ہوا تو وائناڈ کے عوام نے میری حفاظت ایسے کی جیسے میرا اپنا خاندان کرتا ہے۔ آپ نے میرے ساتھ وہی سلوک کیا جیسے میری بہن یا ماں کرتی۔ یہ احسان میں کبھی نہیں بھولوں گا۔‘‘

مظفرپور میں ایک ریلی کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو یہ بتانا چاہیے کہ بہار میں ووٹر لسٹ سے 65 لاکھ ووٹروں کے نام کیوں ہٹائے گئے ہیں۔

بہار میں بی جے پی-جے ڈی یو حکومت مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بحران میں ناکام ہو کر اب اقتدار بچانے کے لیے ووٹ ہتھیا رہی ہے۔ انہوں نے دوٹوک کہا — ’’آئین نے ہر ہندوستانی کو ووٹ کا حق دیا ہے، یہ حق کوئی طاقت نہیں چھین سکتی۔‘‘

 بہار میں اس سال اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ اس یاترا کے ذریعے اپوزیشن پارٹی اتحاد کے لوگ عوام کے درمیان پہنچ کر انہیں اپنی بات بتا رہے ہیں۔ راہل گاندھی کی ووٹر ادھیکار یاترا 17 اگست کو بہار کے ساسارام ​​سے شروع ہوئی تھی۔ اس یاترا میں آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو سمیت اتحاد میں شامل تمام پارٹیوں کے لیڈران بھی اس یاترا میں شامل ہیں۔

راہل گاندھی پورنیہ ارریہ روڈ پر جلال گڑھ کے قریب ایک ڈھابے پر بھی رکے اور چائے پر مقامی لوگوں سے بات چیت کی۔ کانگریس کی زیرقیادت اس یاترا کا مقصد ووٹر چوری اور جمہوری جوابدہی کے مدعے کو اجاگر کرنا ہے۔ اسے ’انتخابی حقوق کے تحفظ کی لڑائی‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ اتر پردیش میں ضمنی انتخابات کے دوران ووٹوں کی ’ڈکیتی‘ ہوئی اور پولیس نے اس میں مدد کی۔ ہمارے پاس اس کے لیے حلف نامے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو 18 ہزار حلف نامے دیے ہیں۔ اگر الیکشن کمیشن ایک پر بھی کارروائی کرتا ہے تو ایک بھی ووٹ نہیں چھوٹے گا۔

ہر کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ آخر منتا دیوی ہیں کون؟ جن کا نام  لے کر اور تصویر والی ٹی شرٹس پہن کر اپوزیشن کے اراکین حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔